مکران کے ساحلی علاقوں میں سمندر کا پانی غیر معمولی طور پر سبز ہوگیا، وجہ اور نقصانات سامنے آگئے

مکران کے ساحلی علاقوں میں سمندر کا پانی غیر معمولی طور پر سبز ہوگیا، وجہ اور نقصانات سامنے آگئے

مکران کے ساحلی علاقوں میں سمندر کا پانی غیر معمولی طور پر سبز ہو جانے سے تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، جہاں گوادر، پسنی، جیوانی اور اورماڑہ کے ساحلوں پر بڑے پیمانے پر الجی (کائی) جمع ہونے کے باعث سمندری حیات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

ماحولیاتی ماہرین کے مطابق اس غیر معمولی صورتحال کے نتیجے میں سمندر میں آکسیجن کی سطح خطرناک حد تک کم ہو گئی، جس کے باعث درجنوں مچھلیاں ہلاک ہو گئیں۔

یہ بھی پڑھیں:سری لنکا میں تباہی مچانے کے بعد سمندری طوفان بھارت کی طرف بڑھنے

ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات نے بتایا کہ الجی بلوم کے باعث نہ صرف مچھلیاں بلکہ دیگر سمندری مخلوق بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ساحل پر گٹار فش سمیت تقریباً 200 سمندری سانپ مردہ حالت میں پائے گئے ہیں، جو ماحولیاتی عدم توازن کی واضح علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال سمندری ایکو سسٹم کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے اور اس کے اثرات وقتی طور پر انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔

ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات کے مطابق ساحلی علاقوں میں پھیلنے والی بدبو اور تعفن سے مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ شہریوں نے شکایت کی ہے کہ ساحل کے قریب رہنا دشوار ہو گیا ہے جبکہ ماہی گیری کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ الجی بلوم ایک قدرتی عمل ہے اور دنیا کے مختلف ساحلی علاقوں میں وقتاً فوقتاً رونما ہوتا رہتا ہے، تاہم اس کے فوری اثرات سمندری حیات اور انسانی زندگی دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں:لاہورمیں فضائی آلودگی کو کنٹرول کرنے کیلئے ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کا منفرد اقدام

انہوں نے ماہی گیروں سے اپیل کی کہ وہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر احتیاط برتیں اور کچھ عرصے کے لیے متاثرہ علاقوں میں ماہی گیری سے گریز کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماہرین صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اامید ہے کہ چند دنوں میں سمندری حالات معمول پر آ جائیں گے اور آکسیجن کی سطح بحال ہو جائے گی۔

ماحولیاتی ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، سمندری درجہ حرارت میں اضافہ اور آلودگی جیسے عوامل بھی الجی بلوم کی شدت میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ انہوں نے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ ساحلی علاقوں کی مسلسل مانیٹرنگ کریں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔

Related Articles