نیٹ فلکس کو مات، ٹک ٹاک نے چپکے سے ایسی ایپ لانچ کر دی کہ آپ بھی دیکھتے رہ جائیں گے

نیٹ فلکس کو مات، ٹک ٹاک نے چپکے سے ایسی ایپ لانچ کر دی کہ آپ بھی دیکھتے رہ جائیں گے

ٹک ٹاک نے خاموشی سے ’پائن ڈراما‘  کے نام سے ایک نئی علیحدہ ایپ متعارف کرا دی ہے، جو مختصر اسکرپٹڈ تفریح کی جانب اس کے بڑھتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کرتی ہے اور صارفین کی بنائی گئی ویڈیوز سے آگے بڑھنے کی حکمتِ عملی کو ظاہر کرتی ہے۔

یہ ایپ امریکا اور برازیل میں لانچ کی گئی ہے اور ’آئی او ایس‘ اور اینڈروائیڈ دونوں پر دستیاب ہے۔ ’پائن ڈراما‘ کا فوکس مکمل طور پر مائیکرو ڈراماز پر ہے، یعنی ایک منٹ کی اقساط پر مشتمل مختصر فکشنل سیریز جو تیز اور مسلسل دیکھنے کے لیے بنائی گئی ہیں۔ فی الحال یہ ایپ مفت اور اشتہارات کے بغیر ہے، تاہم مستقبل میں مونیٹائزیشن کے آپشنز متعارف کرائے جا سکتے ہیں۔

اسکرپٹڈ مواد کا ٹک ٹاک انداز

’پائن ڈراما‘ میں ٹک ٹاک کے مانوس سوائپ بیسڈ انٹرفیس کو قسط وار کہانی کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ صارفین  ڈسکور ٹیب کے ذریعے مواد تلاش کر سکتے ہیں، جہاں ڈراماز کو  آل یا  ٹرینڈنگ کیٹیگریز میں دیکھا جا سکتا ہے، یا پھر عمودی انداز میں لامتناہی ریکمنڈیشن فیڈ اسکرول کی جا سکتی ہے جو دیکھنے کی عادات کے مطابق ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:فیفا ورلڈ کپ 2026ء کی کوریج کا جدید انداز؛ٹک ٹاک کے ساتھ غیر معمولی معاہدہ طے

اس پلیٹ فارم پر تھریِلر، رومانس، فیملی اور ڈراما سمیت متعدد اصناف شامل ہیں۔ مقبول ٹائٹلز میں لوو ایٹ فرسٹ بائٹ اور ’دی آفیسر فَل فار می‘ شامل ہیں۔ واچ ہسٹری، فیررٹیز اور کمنٹس جیسے فیچرز صارفین کو سیریز ٹریک کرنے، پسندیدہ شوز محفوظ کرنے اور دوسرے ناظرین سے بات چیت کی سہولت دیتے ہیں۔ ایک فل اسکرین ویونگ موڈ بھی موجود ہے جو کیپشنز اور سائیڈ بارز ہٹا کر زیادہ بھرپور تجربہ فراہم کرتا ہے۔

ٹک ٹاک کی تفریحی حکمتِ عملی میں توسیع

’پائن ڈراما‘  کا اجرا ٹک ٹاک کی جانب سے گزشتہ سال کے آخر میں متعارف کرائے گئے  ٹک ٹاک مائنز کے بعد ہوا ہے، جو مین ایپ کے اندر مائیکرو ڈراماز پر مشتمل ایک سیکشن ہے۔ ’پائن ڈراما‘ کے ذریعے ٹک ٹاک اب ریل شارٹ اور ڈراما باکس جیسے قائم شدہ مائیکرو ڈراما پلیٹ فارمز سے براہِ راست مقابلہ کر رہا ہے۔

تیزی سے بڑھتی ہوئی صنعت

جو مائیکرو ڈراماز کبھی ایک محدود فارمیٹ سمجھے جاتے تھے، اب وہ تفریحی صنعت کا تیزی سے پھیلتا ہوا شعبہ بن چکے ہیں۔ ورائٹی کے مطابق، اس سیکٹر کی سالانہ آمدن 2030 تک 26 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جس کی وجہ سے بڑی ٹیک کمپنیاں بھی اس جانب متوجہ ہو رہی ہیں۔

تاہم مختصر دورانیے کی کہانی ہمیشہ کامیاب نہیں رہی۔ 2020 میں، ڈریم ورکس کے شریک بانی جیفری کیٹزن برگ کی قائم کردہ قیوابی نے 1.75 ارب ڈالر کی فنڈنگ کے باوجود صرف 6 ماہ میں کام بند کر دیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، قیوآبی کی ناکامی کی بڑی وجہ یہ تھی کہ اس نے ہائی بجٹ ہالی ووڈ مواد کو مختصر اقساط میں سمیٹنے کی کوشش کی، جو ناظرین کو فوری طور پر متوجہ نہ کر سکا۔

مزید پڑھیں:ٹک ٹاک نے صارفین کو بڑی خوشخبری سنادی

اس کے برعکس، ریل شارٹ اور ڈراما باکس جیسے پلیٹ فارمز نے کم بجٹ، تیز رفتار مواد کے ذریعے کامیابی حاصل کی، جس میں کلِف ہینگرز، رومانس اور انتقامی کہانیوں پر انحصار کیا گیا، غیر یونین ٹیلنٹ استعمال ہوا اور مخصوص ناظرین کو ہدف بنایا گیا۔

’پائن ڈراما‘ کے ذریعے، ٹک ٹاک بھی اسی آزمودہ فارمولے پر عمل کرتا دکھائی دیتا ہے، اور یہ شرط لگا رہا ہے کہ مختصر اور لت لگانے والی کہانیاں اس کی اگلی بڑی ترقی کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔

Related Articles