ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کے خلاف جاری میزائل اور ڈرون کارروائیوں کے دوران اردن میں ایک امریکی ایف-15 لڑاکا طیارے کو اس کے ہینگر میں تباہ کر دیا گیا ہے جبکہ ایک امریکی میزائل دفاعی ریڈار نظام کو بھی کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے جاری بیان کے مطابق حالیہ کارروائیاں خطے میں امریکی فوجی موجودگی اور فضائی دفاعی نظام کو کمزور کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اردن میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا مقصد امریکی کارروائیوں کا جواب دینا ہے۔
ایرانی پاسداران نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ بحرین میں امریکی کمپنی ایمازون کے ایک مرکز کو بھی حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ تاہم بحرینی حکام نے تاحال اس دعوے کی تصدیق نہیں کی جبکہ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھی کہا ہے کہ وہ اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔
دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) پہلے ہی اس بات کی تصدیق کر چکا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر ہونے والے ایرانی حملوں میں تقریباً 100 امریکی فوجی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم امریکی حکام نے اردن میں ایف-15 طیارہ تباہ ہونے یا ریڈار سسٹم کو نقصان پہنچنے کے ایرانی دعوے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا۔
اگر ایران کے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع میں ایک اہم پیش رفت ہوگی کیونکہ ایف-15 جیسے جدید جنگی طیارے کو نشانہ بنانا امریکی فضائی صلاحیتوں کے لیے بڑا دھچکا تصور کیا جائے گا۔ تاہم آزاد ذرائع سے ان دعوؤں کی تصدیق نہ ہونے کے باعث صورتحال بدستور غیر واضح ہے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری کارروائیاں اردن، بحرین، سعودی عرب، قطر اور دیگر خلیجی ممالک کی سکیورٹی پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہیں جبکہ آبنائے ہرمز، بحیرہ احمر اور دیگر اہم بحری راستوں میں کشیدگی عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے مزید خطرات پیدا کر سکتی ہے۔