وزیر اعظم کے “اپنا گھر” پروگرام کے تحت ملک میں ہاؤسنگ فنانس کے عمل میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے جہاں کمرشل بینکوں نے 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر لیے ہیں۔
حکومت نے ملک میں ایندھن کی کھپت میں کمی اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے 20 لاکھ الیکٹرک موٹر سائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے، جبکہ کسانوں کے لیے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ڈیجیٹل زرعی قرض اسکیم بھی شروع کر دی گئی ہے۔
وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت الیکٹرک موٹر سائیکلوں کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کر رہی ہے تاکہ عوام کو کم لاگت اور ماحول دوست سفری متبادل میسر آ سکے۔
انہوں نے بتایا کہ ملک میں سالانہ تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹر سائیکلیں 8 ارب ڈالر مالیت کا ایندھن استعمال کرتی ہیں، جس کے باعث درآمدی بل پر بھی نمایاں دباؤ پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکٹرک موٹر سائیکلوں کے فروغ سے ایندھن کی کھپت میں کمی اور توانائی کے شعبے میں بہتری لانے میں مدد ملے گی۔
عدنان پاشا نے کہا کہ اگرچہ اس منصوبے پر عملدرآمد جاری ہے، تاہم الیکٹرک موٹر سائیکلوں کی پیداوار اور فراہمی سے متعلق بعض مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں مرحلہ وار حل کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے اس موقع پر کسانوں کے لیے شروع کی گئی نئی ڈیجیٹل زرعی قرض اسکیم کا بھی اعلان کیا۔ ان کے مطابق اس منصوبے میں 21 بینک، پاکستان بینک ایسوسی ایشن اور سپارک شریک ہیں۔
مشیر وزیر خزانہ نے بتایا کہ اسکیم کے تحت سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور رئیل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے زرعی قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی، جس سے شفافیت کو فروغ ملے گا اور قرضوں کے مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جا سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مالیاتی نظام کو مزید مؤثر، شفاف اور عوام دوست بنانے کے لیے مختلف اصلاحاتی اقدامات پر عمل پیرا ہے۔