مینار پاکستان میں جلسے کی اجازت نہ ملنے پر پی پی نے بڑا اعلان کر دیا

مینار پاکستان میں جلسے کی اجازت نہ ملنے پر پی پی نے بڑا اعلان کر دیا

پاکستان پیپلز پارٹی کو مینارِ پاکستان میں جلسہ کرنے کی اجازت نہ ملنے کے بعد سیاسی صورتحال نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ پارٹی قیادت نے اعلان کیا ہے کہ اب جلسہ رات 8 بجے گورنر ہاؤس لاہور میں منعقد کیا جائے گا۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے جاری اعلان میں کہا گیا ہے کہ مینارِ پاکستان میں جلسے کی اجازت نہ ملنے کے باوجود کارکنوں کا حوصلہ بلند ہے اور پارٹی اپنا عوامی اجتماع گورنر ہاؤس میں منعقد کرے گی۔

 یہ بھی پڑھیں :پیپلز پارٹی اور ن لیگ آمنے سامنے ، عظمیٰ بخاری نے پیپلز پارٹی کی قیادت کو آڑے ہاتھوں لے لیا

دوسری جانب لاہور میں ضلعی انتظامیہ، پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) اور پنجاب پولیس نے مینارِ پاکستان میں جلسے کی تیاریاں ختم کرانا شروع کر دی ہیں۔ حکام کی نگرانی میں جلسہ گاہ پر نصب اسٹیج، کرسیاں، لائٹس اور دیگر سامان ہٹایا جا رہا ہے جبکہ کارکنوں کی جانب سے لگایا گیا انتخابی و جلسے کا سامان بھی اتار دیا گیا۔

انتظامیہ نے مینارِ پاکستان کے احاطے میں موجود شہریوں کو بھی باہر نکالنا شروع کر دیا ہے اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر مینارِ پاکستان کے تمام داخلی اور خارجی دروازے عوام کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔

ادھر پیپلز پارٹی کے جیالے بڑی تعداد میں مینارِ پاکستان پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ متعدد کارکنوں نے گرفتاری دینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے جمہوری حق کے لیے ہر ممکن قربانی دینے کو تیار ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :آزاد کشمیر الیکشن جیت کر عوام کو حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار دلواؤں گا،بلاول بھٹو

سیاسی حلقوں کے مطابق جلسے کی اجازت نہ ملنے اور مقام کی تبدیلی نے پنجاب کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں اسے سیاسی سرگرمیوں پر پابندی قرار دے رہی ہیں جبکہ حکومتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ جلسوں اور اجتماعات سے متعلق فیصلے قانون، سیکیورٹی صورتحال اور انتظامی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جاتے ہیں۔

اس تمام صورتحال کے باعث لاہور میں سیاسی سرگرمیوں اور سیکیورٹی انتظامات میں مزید سختی دیکھنے میں آ رہی ہے، جبکہ گورنر ہاؤس کے اطراف بھی اضافی نفری تعینات کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دونوں جانب سے آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت جاری ہے جس کے باعث آنے والے گھنٹوں میں سیاسی ماحول مزید گرم ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔

editor

Related Articles