بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی ادائیگیوں کا طریقہ کار تبدیل

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام  کی ادائیگیوں کا طریقہ کار تبدیل

 بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ قسط سے مستحق خواتین ملک بھر میں کسی بھی مجاز ریٹیلر یا بینکنگ ایجنٹ کے ذریعے اپنی امدادی رقم آسانی سے وصول کر سکیں گی۔

سینیٹر روبینہ خالد نے یہ بات پشاور کے مولوی امیر شاہ میموریل اسپتال میں قائم بینظیر نشوونما سہولتی مرکز کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر ورلڈ فوڈ پروگرام کی کنٹری ڈائریکٹر انیتا ہرش بھی ان کے ہمراہ تھیں۔

دورے کے دوران چیئرپرسن نے ماں اور بچے کی صحت و غذائیت سے متعلق فراہم کی جانے والی سہولتوں کا جائزہ لیا اور کہا کہ بینظیر نشوونما پروگرام ماں اور بچوں کی بہتر صحت اور متوازن غذائیت کے لیے ایک اہم اور مؤثر اقدام ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی اس وقت ملک بھر میں ایک کروڑ سے زائد مستحق خاندانوں کی معاونت کر رہا ہے اور عوام کے اعتماد کا حامل ادارہ بن چکا ہے۔ انہوں نے میڈیا پر زور دیا کہ پروگرام سے متعلق کسی بھی خبر کی اشاعت سے قبل متعلقہ ادارے سے تصدیق ضرور کی جائے تاکہ غیر مصدقہ معلومات کے پھیلاؤ سے بچا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: آڈٹ رپورٹ میں کسی شخص کی 5 ہزار 598 بیویوں کا ذکر نہیں، چیئرپرسن بی آئی ایس پی

روبینہ خالد نے بتایا کہ بی آئی ایس پی کے مالیاتی نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد ادائیگیوں میں شفافیت کو یقینی بنانا اور مستحقین کو بغیر کسی کٹوتی کے ان کی مکمل رقم فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے بی آئی ایس پی کی مخصوص ڈیجیٹل سم متعارف کرائی گئی ہے، جو صرف مجاز دفاتر سے جاری کی جا رہی ہے، جبکہ مستحق خواتین کو ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے ادائیگیوں سے متعلق تمام معلومات اور بروقت اپڈیٹس بھی فراہم کی جائیں گی۔

چیئرپرسن نے مزید بتایا کہ نئے نظام کے تحت آئندہ قسط سے مستحق خواتین اپنی سہولت کے مطابق کسی بھی مجاز ریٹیلر یا بینکنگ ایجنٹ سے امدادی رقم حاصل کر سکیں گی، جس سے ادائیگیوں کا عمل مزید آسان اور شفاف ہو جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت نے بجٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے متعلق بڑی خوشخبری سنا دی

انہوں نے خبردار کیا کہ بی آئی ایس پی کے نام پر جعلی پیغامات بھیجنے یا فراڈ کے ذریعے مستحق خواتین کو لوٹنے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی مستحق خاندان کے حق پر ڈاکا نہ ڈالا جا سکے۔

Related Articles