وفاقی حکومت نے مٹی کے تیل کی قیمت میں 2 روپے 99 پیسے فی لیٹر اضافہ کرتے ہوئے نئی قیمت 301 روپے 14 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی ہے۔نئی قیمت کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے جس کے بعد ملک بھر میں مٹی کا تیل نئے نرخوں پر فروخت کیا جائے گا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں یہ اضافہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی اخراجات، روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور پیٹرولیم مصنوعات کی مجموعی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا باقاعدہ جائزہ لیا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر نرخوں میں رد و بدل کیا جاتا ہے تاکہ بین الاقوامی مارکیٹ کے اثرات کو ملکی مارکیٹ میں بھی مدنظر رکھا جا سکے۔
مٹی کا تیل ملک کے دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں آج بھی ایندھن کے طور پر بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے دیہی علاقوں میں کھانا پکانے، روشنی کے انتظام اور سردیوں میں حرارت حاصل کرنے کے لیے بھی مٹی کے تیل پر انحصار کیا جاتا ہے۔ قیمت میں اضافے سے ان علاقوں کے عوام کے ماہانہ اخراجات میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت بڑھنے سے نہ صرف گھریلو صارفین متاثر ہوں گے بلکہ اس کے اثرات بعض اشیائے ضروریہ کی نقل و حمل اور پیداواری لاگت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ برقرار رہا تو آئندہ بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کا امکان موجود رہے گا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا عمل مقررہ طریقہ کار کے تحت انجام دیا جاتا ہے اور اس میں بین الاقوامی قیمتوں، درآمدی اخراجات اور دیگر مالیاتی عوامل کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ حکام کے مطابق عوام کو ایندھن کی مسلسل فراہمی اور ملکی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے جبکہ مستقبل میں بھی عالمی منڈی کی صورتحال کے مطابق قیمتوں کا باقاعدہ جائزہ لیا جاتا رہے گا۔