وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے “اسکائی 47 قراقرم-01” کا افتتاح کر دیا

وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر  نے “اسکائی 47 قراقرم-01” کا افتتاح کر دیا

وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مشترکہ طور پر پاکستان کے سب سے بڑے کیریئر نیوٹرل، اے آئی ریڈی ڈیٹا سینٹر “اسکائی 47 قراقرم-01” کا افتتاح کر دیا، جسے ملک کی ڈیجیٹل ترقی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ جدید ترین ڈیٹا سینٹر پاکستان کی ٹیکنالوجی پر مبنی تبدیلی کی بنیاد ثابت ہوگا اور مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، محفوظ ڈیٹا ہوسٹنگ اور جدید ڈیجیٹل سروسز کے فروغ میں مرکزی کردار ادا کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کی کامیاب تکمیل اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان عالمی معیار کے ٹیکنالوجی منصوبے مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وزیراعظم نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت کو سراہتے ہوئے وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، چینی ٹیکنالوجی کمپنی زیڈ ٹی ای (ZTE) اور دیگر شراکت داروں کی خدمات کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مستقبل انہی ممالک کا ہے جو ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، اور پاکستان ایک جدید، ڈیجیٹل طور پر بااختیار معیشت کی جانب تیزی سے گامزن ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مسلح افواج عوام کے اتحاد اور تعاون کے ساتھ دہشتگردوں کے عزائم کو ناکام بنائیں گی، فیلڈ مارشل

انہوں نے وفاقی اور صوبائی اداروں پر زور دیا کہ وہ اس جدید ڈیٹا سینٹر سے منسلک ہوں تاکہ حکومتی امور، سائبر سیکیورٹی، ای گورننس اور عوامی ڈیجیٹل خدمات کو مزید مؤثر بنایا جا سکے، جبکہ بیرون ملک ڈیٹا ہوسٹنگ پر انحصار بھی کم ہو۔

شہباز شریف نے اعلان کیا کہ حکومت کراچی اور لاہور میں بھی اسی طرز کے جدید ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس سے ملک بھر میں ہائی کیپیسٹی ڈیٹا انفراسٹرکچر کا نیٹ ورک تشکیل پائے گا۔

حکام کے مطابق اسکائی 47 قراقرم-01 کی آپریشنل صلاحیت 8.5 میگاواٹ ہے، جو اسے پاکستان کا اپنی نوعیت کا سب سے بڑا ڈیٹا سینٹر بناتی ہے۔ عالمی معیار کے مطابق تعمیر کیے گئے اس مرکز میں مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ پلیٹ فارمز اور بڑے اداروں کی ڈیجیٹل ضروریات کے لیے جدید اور توسیع پذیر کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی آئل ٹینکروں پر حوثی حملے، شہباز شریف کا محمد بن سلمان سے رابطہ، سعودی سلامتی اور دفاع کے لیے مکمل حمایت کا اعادہ

منصوبے میں سوورین کلاؤڈ آرکیٹیکچر اور کثیر سطحی انٹرپرائز سیکیورٹی سسٹم شامل کیا گیا ہے، جس کے ذریعے حکومتی، مالیاتی اور کارپوریٹ اداروں کا حساس ڈیٹا پاکستان کے اندر محفوظ رکھا جا سکے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سے ملک کی ڈیجیٹل خودمختاری، سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا کے تحفظ کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ منصوبہ فوری طور پر پاکستان کو مصنوعی ذہانت کے میدان میں عالمی رہنما نہیں بنائے گا، تاہم یہ مقامی جدت، غیر ملکی سرمایہ کاری، ہنرمند روزگار کے مواقع اور ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرے گا، بشرطیکہ توانائی کی فراہمی اور افرادی قوت کی تربیت جیسے چیلنجز پر بھی مؤثر انداز میں قابو پایا جائے۔

Related Articles