خیبرپختونخوا کا سب سے بڑا اثاثہ بینک آف خیبر سنگین مالی و انتظامی بے ضابطگیوں اور بے قاعدگیوں کے باعث دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گیا بینک آف خیبرکے منیجنگ ڈائریکٹر کی جانب سے بینک اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کے قواعد و ضوابط کے خلاف 40ارب روپے کے دیئے جانے والے قرضہ جات اور معاہدوں میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیاں رپورٹ ہوئی ہیں.
سنگین مالی اور انتظامی بحران پر قابو پانے اور بینک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کیلئے بینک کے تین آزاد ڈائریکٹرز بینک آف خیبر کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین ایڈیشنل چیف سیکرٹری کو ثبوتوں کیساتھ تحریری شکایت ارسال کر دی تحریری شکایت میں مبینہ کرپشن کی فارنزک آڈٹ کرانے اور بینک کو بچانے کی استدعا کی گئی ہے بینک آف خیبر کے تین آزاد ڈائریکٹرز کی جانب سے اعلیٰ حکام کے نام ارسال کردہ مگر خفیہ رکھے گئے اس تحریری شکایت کے مطابق بینک کے منیجنگ ڈائریکٹر/چیف ایگزیکٹو آفیسر کے حوالے سے فوری اور فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
سال2025ء میں 38ارب روپے قرض دینے کی منظوری دی گئی جس میں 27ارب پنجاب اور اسلام آباد، 6 ارب روپے سندھ اور خیبر پختونخوا کیلئے 5ارب روپے کھے گئے تھے۔
آزاد ممبرز کی جانب سے تحریری شکایت کے اہم نکات
تین برانچ منصوبوں کے تعمیراتی کام کامیاب اصل بولی دہندگان سے مبینہ طور پر خفیہ انداز میں ایک غیر رجسٹرڈ مقامی کمپنی کو منتقل کئے گئے چیف فنانشل آفیسر کے دستخط شدہ اور پری آڈٹ شدہ اصل تجویز میں صفحات تبدیل کر کے مبینہ طور پر ردوبدل کیا گیا۔اس تبدیلی کے ذریعے لاہور کے ایک ایسے ٹھیکیدار کو منظور شدہ کمپنیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا جسے پہلے نااہل قرار دیا جا چکا تھا۔یہ جعلسازی مبینہ طور پر چیف فنانشل آفیسر اور متعلقہ شعبوں کے دستخطوں کے بعد لیکن ایم ڈی کے دفتر سے حتمی منظوری سے پہلے ہوئی۔بعد ازاں اس نااہل ٹھیکیدار کو تقریباً 80 ملین روپے کے برانچ معاہدے دیئے گئے۔تعمیراتی تاخیر کے باعث تقریباً 14 ملین روپے کے غیر ضروری کرایہ اخراجات بھی سامنے آئے۔
ارسال کردہ تحریر شکایت کے مطابق تین سال میں بینک کی مارکیٹنگ اخراجات میں 23کروڑ روپے کا خطیر اضافہ دیکھنے میں آیامارکیٹنگ اخراجات مالی سال2022-23ء میں 9کروڑ50لاکھ روپے تھے جو اضافہ کیساتھ سال2025ء میں 32کروڑ50لاکھ روپے تک پہنچ گئے یہ 230 فیصد سے زیادہ اضافہ ہے لیکن متعدد رسمی ہدایات کے باوجود داخلی آڈٹ، بورڈ آڈٹ کمیٹی یا بورڈ کو کوئی کاروباری جواز یا کارکردگی سے متعلق منطق فراہم نہیں کی گئی۔
ٹی وی اور سوشل میڈیا پر تقریباً 10کروڑ روپے کے اخراجات کا ریکارڈ یا تو غائب کر دیا گیا ہے یا پھر اس مد میں ان اخراجات کا ریکارڈ دستیاب ہی نہیں کہ کیا واقعی ٹی اور سوشل میڈیا پر اتنی خطیر رقم خرچ کی جاچکی ہے۔
مارکیٹنگ ایجنسی کو معاہدہ ختم ہونے کے بعد بھی برقرار رکھا گیا اور مسابقتی ٹینڈر کا عمل جاری ہونے کے باوجود اسے11کروڑ70لاکھ روپے ایڈوانس ادا کئے گئے۔یہ خریداری کے قواعد کی واضح خلاف ورزی قرار دی گئی ہے۔اس مبینہ غیرقاعدہ پیشگی ادائیگی کو بعد میں قانونی شکل دینے کے لیے پہلے ایم ڈی نے منظوری دی، جس کے بعد فنانس کی دستاویزی تحفظات کے باوجود مالی منظوری حاصل کی گئی۔
اطلاعات کے مطابق ایم ڈی اور ہیڈ ٹرانزیکشن بینکنگ نے ماضی میں مشترکہ طور پر ایک کاروباری ادارہ، ٹیریز، قائم کیا تھا اور دونوں کاروباری شراکت دار رہ چکے تھے۔ایم ڈی نے اس اہم تعلق کو ظاہر کئے بغیر خود بھرتی پینل کی صدارت کی۔
ہیڈ ٹرانزیکشن بینکنگ جن کی تقرری بذات خود غیر ظاہر شدہ مفادات کے ٹکراؤ کا معاملہ ہے نے 2025 کے دوران ہوم ریمیٹنس کی مد میں 17کروڑ 80 لاکھ روپے کے غیر بجٹ شدہ اخراجات کئے۔اس شعبے کی آمدنی مالی سال 2024 کے مقابلے میں کم ہوئی۔انتظامیہ نے بعد میں 13کروڑ روپے کے اخراجات کو تصوراتی یا تخمینی آمدنی کی بنیاد پر جائز قرار دینے کی کوشش کی۔داخلی آڈٹ نے اس وضاحت کا جائزہ لیا اور اسے غیر حقیقی مفروضوں پر مبنی اور قابل تصدیق آمدنی سے مطابقت نہ رکھنے والا قرار دیا۔
. ٹی پی ایل اور الہیٰ گروپ (ٹی این زی)کو ایک ارب 60کروڑ روپے کا قرض دیا گیا جس میں نہ صرف بینک کے قواعد و ضوابط بلکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی پالیسی کی بھی خلاف ورزی کی گئی
بعد میں موصول ہونے والے آڈٹ شدہ مالیاتی گوشواروں میں قرض لینے والے کی جانب سے اہم غلط بیانی سامنے آئی اس کے باوجود ایم ڈی نے مبینہ طور پر رسک ڈیپارٹمنٹ پر قرض جاری کرنے کیلئے دباؤ جاری رکھاجبکہ بورڈ کے بعض ارکان نے معاملہ بورڈ رسک مینجمنٹ کمیٹی کے سامنے رکھنے کا مطالبہ کیا تھا
منیجنگ ڈائریکٹر کی جانب سے پیشہ ورانہ دیانت کا مظاہرہ کرنے والے چیف رسک آفیسر، چیف کمپلائنس آفیسر اور سربراہ داخلی آڈٹ کو سائیڈ لائن کیا گیا جو ریکارڈ تک رسائی، دستاویزات کی تحویل، آڈٹ کو دی جانے والی وضاحتوں اور ان جائزہ کارروائیوں پر اختیار رکھتے ہیں
ایم ڈی نے ایک سابق ذاتی کاروباری شراکت دار کو تعینات کرنے کیلئے بھرتی پینل کی صدارت کی لیکن اس تعلق کو ظاہر نہیں کیا۔بینک کے ٹریژرر نے مبینہ طور پر خریداری کا عمل ایسے انداز سے ترتیب دیا کہ ایک ایسے وینڈر کو فائدہ پہنچے جس کا سافٹ ویئر انہوں نے خود تیار کیا تھا۔
فارنزک آڈٹ کے مطالبہ میں کیا شامل ہے
بورڈ کی اندرونی آڈٹ کے ذریعے ایک آزاد فارنزک جائزے کی منظوری دے جس میں خریداری اور تعمیراتی معاہدے، مارکیٹنگ اور ریمیٹنس اخراجات، مفادات کے ٹکراؤ کے معاملات،قرضوں میں دی گئی رعایتیں،آڈٹ کارروائی میں ہر قسم کی انتظامی مداخلت کے معاملات شامل ہوں
اندرونی آڈٹ کو ہدایت دی جائے کہ زیر جائزہ معاملات سے متعلق تمام ای میلز، منظوریوں کے ریکارڈ، ادائیگیوں کے شواہد، وینڈر فائلیں، انسانی وسائل کا ریکارڈ، سی سی ٹی وی اور رسائی لاگز اور معاہداتی فائلیں فوری طور پر محفوظ کرے اور ان تک رسائی محدود کر دے۔
کنٹرول کا نظام مستحکم ہونے تک کوئی اہم خریداری، مارکیٹنگ، ریمیٹنس، قرض میں استثنا یا تزویراتی معاہدہ متعلقہ بورڈ کمیٹی یا بورڈ کی پیشگی منظوری کے بغیر پیش یا پراسیس نہ کیا جائے۔بورڈ قانونی مشیر کو ہدایت دے کہ اسٹیٹ بینک اور دیگر متعلقہ ریگولیٹری اداروں کو مناسب اور بروقت اطلاع دینے کے بارے میں مشورہ فراہم کرے۔یہ رابطہ ایسے انداز میں کیا جائے جو ظاہر کرے کہ بورڈ اپنی امانتی اور ریگولیٹری ذمہ داریاں فعال طور پر ادا کر رہا ہے۔
بورڈ کے سامنے موجود معاملات تعمیرات، خریداری، مارکیٹنگ، ریمیٹنس، بھرتیوں، قرضوں، تزویراتی معاہدوں، گورننس فورمز اور ادارہ جاتی ثقافت تک پھیلے ہوئے ہیں۔
3.6 ارب امریکی ڈالر کاغیر قانونی معاہدہ
ایم ڈی نے مبینہ طور پر ڈیجیٹل بینکنگ کے ڈویژنل ہیڈ کو بورڈ کی منظوری کے بغیر 3.6 ارب امریکی ڈالر کی ذمہ داریوں پر مشتمل ماسٹرکارڈ معاہدہ کرنے کی اجازت دی۔3.6ارب امریکی ڈالرماسٹر کارڈ کا معاہدہ بورڈ کی پیشگی منظوری کے بغیر کیا گیا جس میں خریداری کے عمل کو پہلے سے طے شدہ نتائج کیلئے ترتیب دینا، مفادات کے ٹکراؤ رکھنے والے افراد کو جانچ کا اختیار دینا اور اہم معاہدوں کو مناسب منظوری کے بغیر کرنا شامل ہے جنرل سروسز ڈویژن میں خریداری کی بے ضابطگیوں پر بورڈ آڈٹ کمیٹی کی تشویش کے بعد پورے ڈویژن میں اچانک بڑے پیمانے پر تبادلے کئے گئے۔یہ تبادلے گروپ ہیڈ آپریشنز کی رضامندی کے بغیر کئے گئے جس سے آڈٹ ٹریل متاثر ہوا اور زیر الزام افراد کو تحفظ ملنے کا خدشہ پیدا ہوا۔
چیف رسک آفیسر نے ایم ڈی کی قرضوں سے متعلق مداخلتوں کی مخالفت کی تو انہیں ہٹانے کی کوشش کی گئی اور ان کی کارکردگی کی درجہ بندی کم کر دی گئی۔
انتہائی سنگین معاملات میں فیصلہ سازی کا سلسلہ ایم ڈی کے دفتر یا ان کے براہ راست تعینات کردہ افراد سے گزرتا رہا۔ان معاملات میں تعمیراتی معاہدے، وینڈرز کی فہرست سازی، مارکیٹنگ اخراجات، ہیڈ ٹرانزیکشن بینکنگ کی تقرری، ریمیٹنس نقصانات، ٹی پی ایل اور الٰہی گروپ کے قرضوں میں استثنا، ٹریژری سافٹ ویئر، موبائل ایپ خریداری اور ماسٹرکارڈ معاہدہ شامل ہیں۔ایم ڈی نے مبینہ طور پر چیف رسک آفیسر کو ہٹانے کی دستاویزی کوششیں بھی کیں بظاہر اس لئے کہ انہوں نے ان مداخلتوں کی مزاحمت کی۔اسی تناظر میں چیف رسک آفیسر کی کارکردگی کی درجہ بندی کم کر کے بی کر دی گئی۔
آزاد ممبرز کے کن اقدامات پر تحفظات ہیں؟
بینک کے تقریباً 28 فیصد شیئرز کی نمائندگی کرنے والے تین آزاد اور منتخب ڈائریکٹرز نے محتاط اور ذمہ دارانہ جائزے کے بعد متفقہ طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ موجودہ ایم ڈی کا عہدے پر برقرار رہنا اب بینک کے مفاداس کی گورننس ذمہ داریوں، حکومت خیبرپختونخوا کی اکثریتی شیئر ہولڈر حیثیت اور عوام کیلئے اس کی ذمہ داریوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
بورڈ کے سامنے موجود خدشات محض نظری یا مفروضاتی نہیں بلکہ ان میں خریداری کی دستاویزات میں مبینہ جعلسازی، بینک کی پالیسیوں اور خیبرپختونخوا کے خریداری قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نااہل ٹھیکیداروں کو معاہدے دینا،ذاتی مفادات کے ٹکراؤ کو ادارے سے دانستہ طور پر چھپانا، 17کروڑ 80 لاکھ روپے کے غیر بجٹ شدہ نقصان پر کسی قسم کی جوابدہی نہ ہونا، ایک قرض لینے والے کو اسٹیٹ بینک کے کریڈٹ بیورو سے نکالنے کی دستاویزی کوشش، جو ایک ریگولیٹری خلاف ورزی ہے،رسک افسران پر ایسے قرضوں کی منظوری یا اجرا کے لیے مسلسل دباؤ ڈالنا جنہیں انہوں نے غیر محفوظ قرار دیا،چیف رسک آفیسر سمیت ان سینئر افسران کو نشانہ بنانا اور کمزور کرنا جنہوں نے غیرقاعدہ ہدایات کی مخالفت کی،عملے کے تبادلوں اور عدم تعاون کے ذریعے داخلی آڈٹ میں فعال رکاوٹ ڈالنا،ایک پسندیدہ ایگزیکٹو کو ترقی یا بہتر درجہ بندی دینے کے لیے اہم ایگزیکٹوز کی فہرست میں مبینہ ہیرا پھیری کرنا کے معاملات شامل ہیں
لہٰذا بورڈ سے درخواست کی جاتی ہے کہ موجودہ منیجنگ ڈائریکٹر کو فوری طور پر عہدے سے الگ کرے اور قائم مقام ایم ڈی مقرر کرے۔
فوری طور پر قائم مقام چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر کیا جائے۔داخلی آڈٹ کو ہدایت دی جائے کہ مشتبہ وینڈرز اور ایجنسیوں کو کی گئی تمام ادائیگیوں اور زیر سوال خریداری کے نظام کے تحت دیے گئے تمام نئے معاہدوں کا فوری جائزہ مکمل کرے۔داخلی آڈٹ کو متعلقہ شعبوں کے تعاون اور بورڈ کی نگرانی میں تمام متعلقہ ای میلز، منظوریوں، معاہدوں، ادائیگیوں کے ریکارڈ، سی سی ٹی وی اور رسائی لاگز، وینڈر فائلوں، ایچ آر فائلوں اور خریداری ریکارڈ کو محفوظ کرنے کی ہدایت دی جائے۔
بورڈ کو 30 روز کے اندر کنٹرول استحکام رپورٹ پیش کی جائے، جس میں سینئر مینجمنٹ کے خالی عہدوں، اضافی چارجز، اختیارات کی تفویض، مینجمنٹ کمیٹی اور الکو کے فیصلہ سازی کے نظم و ضبط، خریداری کے کنٹرول اور قرضوں کی منظوری کے نظام کا جائزہ شامل ہو۔چیف رسک آفیسر، چیف کمپلائنس آفیسر اور سربراہ داخلی آڈٹ سمیت ان تمام افسران کو تحفظ فراہم کیا جائے جنہوں نے زیر جائزہ معاملات میں پیشہ ورانہ دیانت کا مظاہرہ کیا۔انہیں ایم ڈی کی ہدایات کے نتیجے میں مزید کسی انتظامی کارروائی یا منفی نتیجے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔دھوکا دہی، بدعنوانی، مالی ذمہ داری، تادیبی کارروائی یا فوجداری مقدمے کے حتمی تعین کا اختیار آزاد فرانزک تحقیقات اور قابل اطلاق قانونی عمل کو حاصل ہوگا۔