اہم بحری گزرگاہ میں متبادل راستے کی اجازت نہیں دینگے ، ایران کی امریکہ کو وارننگ

اہم بحری گزرگاہ میں متبادل راستے کی اجازت نہیں دینگے ، ایران کی امریکہ کو وارننگ

ایران نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کے معاملے پر اپنا سخت مؤقف دہراتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ اس اہم بحری گزرگاہ میں کسی متبادل راستے کی اجازت نہیں دے گا۔ ایرانی سپریم لیڈر کے سینیئر مشیر میجر جنرل محسن رضائی نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر خطے میں مزید جنگی جہاز یا فوجی طاقت لائی گئی تو ایران مناسب جواب دینے سے گریز نہیں کرے گا۔

محسن رضائی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات اور خطے کی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران کا مؤقف پہلے دن سے واضح ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

 یہ بھی پڑھیں :ایران کشیدگی نہیں چاہتا، لیکن ملکی دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا،مسعود پزشکیان

محسن رضائی نے دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے جاری کی گئی وارننگ کے بعد متعدد بحری جہاز اپنا راستہ تبدیل کرنے یا واپس جانے پر مجبور ہوئے۔ ان کے مطابق جو بحری جہاز امریکی ہدایات پر عمل کرتے ہیں انہیں مشکلات اور نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بالآخر انہیں بھی اپنا راستہ بدلنا پڑتا ہے۔

ایرانی مشیر نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو امریکا کی شرائط کے مطابق دوبارہ کھولنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ایران اس معاملے پر اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہے گا اور کسی بھی ایسے اقدام کی اجازت نہیں دے گا جو اس کی قومی سلامتی یا خودمختاری کے خلاف ہو۔

محسن رضائی نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور اگر اس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

 یہ بھی پڑھیں :ایران نے مذاکرات کے لیے خود رابطہ کیا، آبنائے ہرمز جلد کھل جائیگی ، ٹرمپ کا دعوی

انہوں نے یوکرین سے متعلق بھی اہم دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے یوکرین میں تین مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کی تیاری مکمل کر لی تھی۔ تاہم ان کے مطابق یوکرین نے ایک ایرانی جہاز پر حملے کو اپنی غلطی قرار دیتے ہوئے اس کا اعتراف کیا، جس کے بعد ایران نے مجوزہ حملے کا ارادہ ترک کر دیا۔

محسن رضائی کا کہنا تھا کہ اگرچہ حملہ نہیں کیا گیالیکن ایران اس معاملے کو ختم شدہ نہیں سمجھتا۔ یوکرین کو اس واقعے کی قیمت ہر صورت چکانا ہوگی اور ایران اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مناسب وقت پر فیصلے کرے گا۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار مختلف ممالک تک پہنچائی جاتی ہے۔ اس گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی توانائی کی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث اس حساس بحری راستے کی صورتحال پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہیں۔

editor

Related Articles