امریکا میں ایک کم عمر لڑکے کی شرارت نے اپنی دادی کو ایئرپورٹ پر مشکل میں ڈال دیا، جب ان کے سامان سے امریکی خانہ جنگی (سول وار) کے دور سے تعلق رکھنے والے پانچ توپ کے گولے برآمد ہوئے، جو بعد میں چوری شدہ تاریخی نوادرات نکلے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی ریاست الاباما کے گلف شورز انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 18 جولائی کو معمول کی سیکیورٹی جانچ کے دوران ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن (ٹی ایس اے) کے اہلکاروں نے ایک مسافر کے چیک اِن بیگ میں مشتبہ شے دیکھی۔ ایکس رے اسکیننگ کے بعد سامان کی تلاشی لی گئی تو کاغذی تولیوں میں لپٹے ہوئے5 چھوٹے توپ کے گولے برآمد ہوئے، جس پر فوری طور پر سیکیورٹی حکام کو اطلاع دی گئی۔
ٹی ایس اے کے اہلکار جسٹن ڈوپری کے مطابق انہوں نے پہلے غیر فعال دستی بم اور تربیتی گولہ بارود ضرور دیکھا تھا، لیکن تاریخی توپ کے گولوں کا ایسا واقعہ پہلی بار سامنے آیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والے تمام گولے غیر فعال تھے اور ان میں کوئی دھماکا خیز مواد موجود نہیں تھا، تاہم فوجی گولہ بارود ہونے کے باعث انہیں طیارے میں لے جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
بعد ازاں تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ گولے تاریخی فورٹ مورگن سے چرائے گئے تھے۔ قلعے کے عملے کی جانب سے لگائے گئے مخصوص رنگی نشانات کی مدد سے ان کی شناخت کی گئی، جس سے تصدیق ہوئی کہ یہ امریکی خانہ جنگی کے دور کے تاریخی آثار ہیں۔ بالڈون کاؤنٹی شیرف آفس کے مطابق ایک کم عمر لڑکے نے یہ توپ کے گولے فورٹ مورگن کے اسٹوریج ایریا سے چرائے اور خاموشی سے اپنی دادی کے چیک اِن بیگ میں رکھ دیے۔
پولیس کو بیان دیتے ہوئے خاتون نے کہا کہ انہیں اس بات کا بالکل علم نہیں تھا کہ ان کے سامان میں موجود توپ کے گولے چوری شدہ تاریخی نوادرات ہیں۔ واقعے کے بعد حکام نے تاریخی نوادرات کو اپنی تحویل میں لے کر مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔