اسپائیڈر مین کی نئی فلم اسپائیڈر مین برانڈ نیو ڈے نے دنیا بھر میں شاندار آغاز کرتے ہوئے باکس آفس پر دھوم مچا دی ہے، جبکہ ٹام ہالینڈ کی اداکاری کو بھی ناقدین اور شائقین کی جانب سے بھرپور سراہا جا رہا ہے۔
مارول اور سونی کی مشترکہ پیشکش اس فلم میں ٹام ہالینڈ ایک بار پھر پیٹر پارکر (اسپائیڈر مین) کے کردار میں جلوہ گر ہوئے ہیں۔ ان کے ساتھ زینڈایا، سیڈی سنک، جیکب بیٹلون اور جان فیوریو نے بھی اہم کردار ادا کیے ہیں، جبکہ فلم کی ہدایت کاری ڈیسٹن ڈینیئل کریٹن نے کی ہے۔
فلم کی کہانی میں ایکشن، جذبات، مزاح اور سپر ہیرو دنیا کی روایتی کشمکش کو متوازن انداز میں پیش کیا گیا ہے، جس کے باعث ناظرین کی دلچسپی آغاز سے اختتام تک برقرار رہتی ہے۔
باکس آفس موجو کے مطابق فلم نے ریلیز کے ابتدائی ہفتے کے اختتام تک دنیا بھر سے تقریباً 927 ملین ڈالر کا کاروبار کیا۔ اس میں 355 ملین ڈالر شمالی امریکا جبکہ 572 ملین ڈالر دیگر بین الاقوامی مارکیٹس سے حاصل ہوئے۔
اس شاندار آغاز کے بعد فلم تیزی سے ایک ارب ڈالر کی کمائی کی جانب بڑھ رہی ہے، جبکہ اسے عالمی تاریخ کی دوسری بڑی اوپننگ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس فہرست میں اب بھی ‘ایوینجرز اینڈ گیم’ پہلے نمبر پر موجود ہے۔
تجارتی ویب سائٹ سیکنیک کے مطابق فلم نے بھارت میں صرف چار دن کے دوران 256.20 کروڑ روپے نیٹ اور 306.37 کروڑ روپے گراس کا بزنس کیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اتوار کو فلم نے 18 ہزار سے زائد شوز کے ذریعے 76 کروڑ روپے نیٹ کمائے، جبکہ انگریزی کے ساتھ ہندی ڈب ورژن کو بھی شائقین کی جانب سے بھرپور پذیرائی مل رہی ہے۔
فلمی تجزیہ کار ترن آدرش نے اس کامیابی کو ’باکس آفس پر سونامی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلم کی ہفتہ وار کمائی نے افتتاحی روز کے ریکارڈز کو بھی پیچھے چھوڑ دیا، جو کسی بھی ہالی ووڈ فلم کے لیے غیرمعمولی کامیابی سمجھی جاتی ہے۔
دوسری جانب ٹام ہالینڈ نے حالیہ انٹرویو میں اشارہ دیا ہے کہ ’اسپائیڈر مین برانڈ نیو ڈے‘ممکنہ طور پر اسپائیڈر مین کے طور پر ان کی آخری فلم ثابت ہو سکتی ہے۔
انہوں نے ہیپی سائیڈ کنفیوزیڈپوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’اسپائیڈر مین نو وے ہوم‘کے بعد سے اس کردار کے مستقبل اور نئے اداکار کو ذمہ داری منتقل کرنے کے منصوبے پر کام جاری ہےاور وہ چاہتے ہیں کہ یہ تبدیلی شائقین کے لیے یادگار ثابت ہو۔
’اسپائیڈر مین برانڈ نیو ڈے‘ صرف ایکشن اور شاندار ویژول ایفیکٹس تک محدود نہیں بلکہ جذباتی کہانی، مضبوط کرداروں اور متوازن رفتار کے باعث بھی متاثر کرتی ہے۔ اگر فلم کی موجودہ رفتار برقرار رہی تو توقع ہے کہ یہ نہ صرف ایک ارب ڈالر کا سنگ میل عبور کرے گی بلکہ 2026 کی کامیاب ترین ہالی ووڈ فلموں میں بھی شامل ہو جائے گی۔