پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان جاری دوسرے ٹیسٹ میں ویسٹ انڈین کمنٹیٹر این بشپ نے سیالکوٹ کا ذکر کچھ اس انداز میں کیا کہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔
انہوں نے علامہ اقبال اور فیض احمد فیض کے آبائی شہر کا حوالہ دیتے ہوئے عبداللہ شفیق کے نام ‘کتابی’ کا پس منظر بھی بیان کر دیا۔
پورٹ آف سپین میں جاری پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے دوسرے ٹیسٹ کی کمنٹری کے دوران وہ لمحہ آیا جس نے شائقینِ کرکٹ کو خوشگوار حیرت میں مبتلا کر دیا۔
ویسٹ انڈین کمنٹیٹر این بشپ گفتگو کرتے کرتے یکایک سیالکوٹ کی ادبی روایت کی طرف مڑ گئے اور بتایا کہ یہ شہر برصغیر کے دو بڑے شاعروں، علامہ اقبال اور فیض احمد فیض، کی جائے پیدائش ہے۔
بات یہیں نہیں رکی۔ این بشپ نے اس ادبی پس منظر کو موجودہ میچ سے بھی جوڑ دیا اور بتایا کہ اسی سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے بلے باز عبداللہ شفیق کو کپتان بابر اعظم نے ‘کتابی’ کا لقب دے رکھا ہے۔
یہاں تک سن کر شاید کئی ناظرین سوچیں کہ یہ نام کتاب پڑھنے کے شوق کی بنا پر رکھا گیا ہوگا، مگر این بشپ نے فوراً اس تاثر کو درست کیا۔ ان کے مطابق عبداللہ شفیق کو یہ نام مطالعے یا کتاب دوستی کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کی نفیس اور کتابی انداز کی بیٹنگ تکنیک دیکھ کر دیا گیا۔
میچ کی صورتحال
کمنٹری باکس میں یہ دلچسپ گفتگو ایسے وقت ہوئی جب عبداللہ شفیق میدان میں شاندار بلے بازی کا مظاہرہ کر رہے تھے۔
دو ٹیسٹ میچز کی سیریز کے آخری اور فیصلہ کن مقابلے کے دوسرے دن کے اختتام تک پاکستان نے ویسٹ انڈیز کی پہلی اننگز کے 344 رنز کے جواب میں 2 وکٹوں کے نقصان پر 266 رنز بنا لیے تھے۔
عبداللہ شفیق نے شاندار سینچری مکمل کی اور 107 رنز بنا کر ناقابلِ شکست کریز پر موجود رہے، جبکہ ان کے ساتھ کپتان بابراعظم بھی 86 رنز کے ساتھ اننگز کو آگے بڑھا رہے تھے۔ اس مرحلے پر پاکستان کو پہلی اننگز میں برتری حاصل کرنے کے لیے مزید 78 رنز درکار تھے۔
سیالکوٹ کو برصغیر کی ادبی تاریخ میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔ فلسفی و شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال اسی شہر میں پیدا ہوئے، جبکہ ترقی پسند شاعر فیض احمد فیض کا آبائی تعلق بھی سیالکوٹ سے ہی رہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سیالکوٹ کو اکثر ادبی و تخلیقی حوالوں سے یاد کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب کھیلوں کی دنیا میں بھی سیالکوٹ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں، خصوصاً کھیلوں کے سامان کی صنعت اور اب حالیہ برسوں میں ابھرتے ہوئے کرکٹرز کی بدولت۔ عبداللہ شفیق کا تعلق بھی اسی شہر سے ہے اور بابراعظم کی جانب سے دیا گیا لقب ‘کتابی’ ٹیم کے اندر ان کی پہچان بن چکا ہے۔
کرکٹ کمنٹری عموماً میچ کی رفتار اور اعدادوشمار تک محدود رہتی ہے، مگر این بشپ کا یہ تبصرہ اس بات کی عمدہ مثال ہے کہ کس طرح ایک تجربہ کار کمنٹیٹر کھیل کو مقامی ثقافت اور تاریخ سے جوڑ کر ناظرین کے لیے مزید دلچسپ بنا سکتا ہے۔
سیالکوٹ جیسے شہر کا حوالہ محض اتفاقی نہیں تھا بلکہ اس نے پاکستانی ثقافت سے بین الاقوامی ناظرین کو متعارف کرانے کا کام بھی کیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کلپ محض کرکٹ کے شائقین ہی نہیں بلکہ ادب سے دلچسپی رکھنے والے صارفین میں بھی زیرِ بحث آیا۔
دوسری جانب یہ لمحہ عبداللہ شفیق کی بڑھتی ہوئی شہرت کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ ایک نوجوان بلے باز جس کی بیٹنگ تکنیک اب بین الاقوامی کمنٹیٹرز کی توجہ اور تعریف کا مرکز بن رہی ہے، ظاہر کرتا ہے کہ ان کی کارکردگی مسلسل اوپر کی جانب گامزن ہے۔
سینچری کے ساتھ ساتھ اس طرح کے دلچسپ تبصرے کھلاڑی کے تشخص کو مزید نمایاں کرتے ہیں اور شائقین کے ساتھ ایک جذباتی تعلق بھی قائم کرتے ہیں۔