آزاد کشمیر میں انتخابات کا پہلا مرحلہ قریب آتے ہی انتشاری پھر حرکت میں آگئے، انتخابی جلسوں میں بھرپور عوامی شمولیت، انتخابی مہم میں جوش و خروش کالعدم ایکشن کمیٹی کو ایک آنکھ نہ بھایا اسلئے خودکو رد ہوتا دیکھ کر پرامن سیاسی سرگرمیوں کی راہ میں روڑے اٹکانے کیلئے پھر انتشاری لانگ مارچ کی دھمکیاں شروع کردیں۔
انتخابات کی تیاریوں میں عوام کا جوش و خروش واضح کررہا ہے کہ کشمیری عوام صد فیصد پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں اور بیرونی امداد پر ناچنے والی کٹھ پتلی ایکشن کمیٹی کی انتشار پرور احتجاجی کالوں کو بارہا مسترد کرچکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :کالعدم انتشاری کمیٹی کے سرغنہ امان نے بلوچ بیٹھک میں سیکیورٹی فورسز پر حملے کا اعتراف کر لیا
موجودہ صورتحال میں واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی حالیہ سیاسی سرگرمیوں اور اسکے نتیجے میں حکومت کے قیام کو روکنے کیلئے بیرونی آقاؤں کی فرمائش پر ایک بار پھر احتجاجی ڈرامہ لگا کر توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرنا چاہتی ہے۔
یہ حقیقت بھی حتمی طور پر محسوس کی جاسکتی ہے کہ کشمیری عوام والہانہ انداز میں سیاسی عمل میں شریک ہیں اور کالعدم انتشاری ٹولے کو مکمل رد کرچکے ہیں۔

