کالعدم انتشاری کمیٹی کے سرغنہ امان کی جانب سے دیے گئے حالیہ بیانات پر سیکیورٹی اور سیاسی امور کے ماہرین نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ریاست مخالف اور اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق امان نے اپنی گفتگو میں دعویٰ کیا کہ ان کے مطالبات ان کی مرضی کے مطابق حل ہوں گے، انہوں نے کہا کہ جو کارروائیاں بلوچ بیٹھک میں کی گئیں وہ دیگر مقامات پر بھی کی جا سکتی ہیں۔ اسی گفتگو میں انہوں نے بلوچ بیٹھک میں سیکیورٹی فورسز پر حملے کا اعتراف بھی کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کالعدم انتشاری کمیٹی بھارتی پراکسی کے طور پر خطے میں بدامنی اور عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ایسے بیانات کا مقصد ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی کو فروغ دینا اور عوام میں انتشار پھیلانا ہے۔
ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق فیصلہ کن کارروائی ناگزیر ہے تاکہ امن و امان برقرار رکھا جا سکے اور ملک میں انتشار پھیلانے کی کوششوں کو ناکام بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کالعدم انتشاری کمیٹی کے سرغنہ امان کی جانب سے ریاست مخالف بیانیے کی تشہیر قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہے، جس کا مؤثر اور قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے تدارک ضروری ہے۔