دنیا کے مختلف حصوں میں قدرتی آفات کا سلسلہ جاری ہے، جہاں حال ہی میں جاپان اور میکسیکو میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔
جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں طاقتور زلزلے نے خوف و ہراس پھیلا دیا ہے، جس کی شدت جاپانی نیشنل ریسرچ سینٹر کے مطابق 7.1 ریکارڈ کی گئی ہے۔ زلزلے کی گہرائی اور شدت اتنی زیادہ تھی کہ زمین شدید لرز اٹھی اور لوگ خوفزدہ ہو کر کھلے آسمان تلے نکل آئے۔
سونامی کی وارننگ اور انتظامی اقدامات
زلزلے کے فوری بعد جاپانی حکام نے ممکنہ بڑے خطرے کے پیشِ نظر ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھاتے ہوئے ایک میٹر بلند سونامی کی وارننگ جاری کر دی ہے۔
ساحلی پٹیوں کے لیے الرٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو فوری طور پر ساحلی علاقوں سے دور رہنے، اونچے مقامات پر منتقل ہونے اور تمام حفاظتی ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
جاپانی زلزلہ پیما مرکز اور دیگر متعلقہ ادارے ممکنہ نقصانات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں جبکہ ریسکیو ٹیمیں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ ہیں۔
میکسیکو میں زلزلے کے جھٹکے
دوسری جانب لاطینی امریکی ملک میکسیکو میں بھی دھرتی کانپ اٹھی جہاں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ ریکٹر اسکیل پر اس زلزلے کی شدت 5.8 ریکارڈ کی گئی۔
خوش قسمتی سے میکسیکو میں زلزلے کے فوری بعد کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم وہاں بھی لوگوں میں شدید خوف و ہراس پایا گیا۔
جاپان دنیا کے ان خطوں میں سرفہرست ہے جو ‘رنگ آف فائر’ پر واقع ہونے کی وجہ سے زلزلوں اور سونامی کے حوالے سے انتہائی حساس مانے جاتے ہیں۔
جاپانی تاریخ میں سنہ 2011 کا ہولناک زلزلہ اور سونامی آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہے، یہی وجہ ہے کہ جاپانی حکومت اور ادارے کسی بھی معمولی یا بڑے زلزلے پر انتہائی پھرتی اور سنجیدگی سے کام لیتے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ جانی نقصان کو روکا جا سکے۔
زلزلوں کے حوالے سے حالیہ پیش رفت دنیا بھر کے لیے ایک بار پھر قدرت کے آگے انسان کی بے بسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس صورتحال کا تفصیلی تجزیہ درج ذیل نکات کے تحت کیا جا سکتا ہے۔
جاپان کا جدید ترین ارضیاتی نظام
جاپان نے جس سرعت کے ساتھ زلزلے کے فوراً بعد سونامی کی وارننگ جاری کی، وہ اس ملک کے ارضیاتی مانیٹرنگ سسٹم کی بہترین کارکردگی کا مظہر ہے۔ وقت پر دی گئی وارننگ ہزاروں یا لاکھوں جانیں بچانے کا سبب بنتی ہے۔
بحر الکاہل کا ‘رنگ آف فائر’ خطرہ
جاپان اور میکسیکو دونوں ہی بحر الکاہل کے اس ارضیاتی بیلٹ پر واقع ہیں جہاں ٹیکٹونک پلیٹوں کے ٹکراؤ کے باعث زلزلے معمول ہیں۔ ایک ہی وقت میں دنیا کے دو الگ الگ حصوں میں زلزلوں کا آنا اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کرہ ارض کے اندرونی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
احتیاطی تدابیر کی اہمیت
زلزلوں کو روکا تو نہیں جا سکتا، لیکن جاپانی حکومت کی جانب سے شہریوں کو ساحلی علاقوں سے دور رہنے کی فوری ہدایات دینا اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے عوامی آگاہی اور فوری انتظامی ردعمل سب سے اہم کردار ادا کرتا ہے۔