آزاد کشمیر سے متعلق سوشل میڈیا پر گمراہ کن پروپیگنڈا بے نقاب، صحافی شیراز حسن نے شواہد شیئر کر دیے

آزاد کشمیر سے متعلق سوشل میڈیا پر گمراہ کن پروپیگنڈا بے نقاب، صحافی شیراز حسن نے شواہد شیئر کر دیے

سینئر صحافی شیراز حسن نے آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض تصاویر کو گمراہ کن اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ان کے حوالے سے شواہد شیئر کیے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے حامیوں کی جانب سے مختلف تصاویر کو آزاد کشمیر سے منسوب کر کے پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے حالانکہ ابتدائی جانچ میں ان تصاویر کے بارے میں مختلف حقائق سامنے آئے ہیں۔

شیراز حسن نے سوشل میڈیا پر ایک تصویر شیئر کی، جس میں بڑی تعداد میں گولیوں کے خول دکھائے گئے تھے۔ ان کے مطابق اس تصویر کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ یہ خول قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے چلائی گئی گولیوں کے ہیں اور ان کا تعلق آزاد کشمیر کے حالیہ حالات سے ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی ، بیرونِ ملک سے آنے والا تربیت یافتہ اسنائپر گرفتار

صحافی نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے ایک اسکرین شاٹ بھی شیئر کیا اور لکھا کہ مذکورہ تصویر صبح سے درجنوں سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے پوسٹ کی جا چکی ہے اور اسے کشمیر سے منسوب کیا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت میں یہ تصویر آزاد کشمیر کی نہیں ہے۔ ان کے مطابق یہ تصویر 15 اپریل 2026 کو ایک سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے پہلے ہی پوسٹ کی جا چکی تھی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اسے موجودہ صورتحال کے تناظر میں غلط انداز سے پیش کیا جا رہا ہے۔

شیراز حسن نے ایک اور تصویر بھی شیئر کی، جس کے بارے میں انہوں نے لکھا کہ یہ مصنوعی ذہانت(اے آئی ) کی مدد سے تیار کی گئی معلوم ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ تصویر میں موجود گاڑی کی رجسٹریشن پلیٹ اور پس منظر میں نظر آنے والی موٹرسائیکلیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ ایک اے آئی سے تیار کردہ تصویر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود متعدد سوشل میڈیا صارفین اور کارکنان بغیر کسی تصدیق کے اس تصویر کو شیئر کر رہے ہیں، حالانکہ ان کے مطابق اس تصویر کا میرپور یا آزاد کشمیر سے کوئی تعلق نہیں۔

Related Articles