چٹان سے جڑی دنیا کی بلند ترین لفٹ، ایک بار دیکھیں گے تو حیران رہ جائیں گے

چٹان سے جڑی دنیا کی بلند ترین لفٹ، ایک بار دیکھیں گے تو حیران رہ جائیں گے

چین کے دلکش ژانگ جیا جی نیشنل فاریسٹ پارک میں واقع بیلونگ ایلیویٹر دنیا کے حیرت انگیز انجینئرنگ منصوبوں میں شمار ہوتی ہے۔ ’’ہنڈرڈ ڈریگنز ایلیویٹر‘‘ کے نام سے مشہور یہ لفٹ 326 میٹر (1,070 فٹ) بلند ہے اور ایک عظیم الشان چٹان کے ساتھ نصب کی گئی ہے۔

اس منصوبے پر 1999 میں کام شروع ہوا۔ لفٹ کے شافٹ کا تقریباً 154 میٹر حصہ پہاڑ کو تراش کر بنایا گیا، جبکہ اوپری 171 میٹر شیشے اور فولاد سے تیار کیا گیا ہے، جو چٹان کے ساتھ جڑا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

یہ بھی پڑ ھیں:پہلی نظر میں عام درخت، حقیقت میں 20 کروڑ سال پرانے پتھر

بیلونگ ایلیویٹر میں3 ڈبل ڈیک لفٹیں نصب ہیں، جن میں سے ہر ایک تقریباً 50 مسافروں کو ایک وقت میں لے جا سکتی ہے۔ 2015 میں رفتار بڑھائے جانے کے بعد یہ لفٹ صرف 66 سیکنڈ میں مسافروں کو پہاڑ کی چوٹی تک پہنچا دیتی ہے۔

لفٹ کی تعمیر سے پہلے سیاحوں کو یوان جیا جی سطح مرتفع تک پہنچنے کے لیے 2سے3 گھنٹے تک دشوار گزار پہاڑی راستوں پر پیدل سفر کرنا پڑتا تھا، لیکن اب یہی سفر 1 منٹ سے کچھ زیادہ وقت میں مکمل ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سالگرہ سے چند روز پہلے شہری کی قسمت بدل گئی, کرڑوں کی لاٹری جیت لی

تاہم اس منصوبے نے ابتدا میں تنازع بھی پیدا کیا، کیونکہ یہ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل علاقے کے اندر تعمیر کیا گیا تھا۔ ناقدین نے اس کے ماحولیاتی اثرات پر خدشات ظاہر کیے، جبکہ زلزلے کے خطرات کے باعث لفٹ کو جدید حفاظتی نظام اور نگرانی کے بعد دوبارہ عوام کے لیے کھولا گیا۔

2015 میں گنیز ورلڈ ریکارڈز نے بیلونگ ایلیویٹر کو دنیا کی بلند ترین آؤٹ ڈور لفٹ قرار دیا۔ آج یہ منصوبہ جدید انجینئرنگ، جدت اور قدرتی حسن کا منفرد امتزاج سمجھا جاتا ہے۔

editor

Related Articles