امریکا کی ریاست ایریزونا میں واقع پیٹریفائیڈ فاریسٹ نیشنل پارک میں موجود درختوں کے تنے پہلی نظر میں عام لکڑی معلوم ہوتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ 20 کروڑ سال سے زائد قدیم پتھریلے فوسلز ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ درخت لیٹ ٹرائیاسک دور میں دریاؤں کے ذریعے بہہ کر آئے اور مٹی و ریت کی تہوں تلے دب گئے۔ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں برس کے دوران معدنیات سے بھرپور زیرزمین پانی نے آہستہ آہستہ لکڑی کے نامیاتی مادے کی جگہ کوارٹز بھر دیا، جس سے درختوں کی ساخت جوں کی توں محفوظ رہی، مگر وہ مکمل طور پر پتھر میں تبدیل ہو گئے۔
ان پتھریلے درختوں کے اندر نظر آنے والے سرخ، زرد، جامنی اور سیاہ رنگ مختلف معدنیات، خصوصاً آئرن اور مینگنیز کی موجودگی کا نتیجہ ہیں، جس کی وجہ سے ہر تنا منفرد دکھائی دیتا ہے۔
اگرچہ یہ تنے تازہ کاٹی گئی لکڑی جیسے محسوس ہوتے ہیں، مگر ان میں موجود دراڑیں قدرتی عمل کا نتیجہ ہیں۔ ماہرین کے مطابق جب کولوراڈو پلیٹو بلند ہوا تو سخت کوارٹز پر دباؤ بڑھا، جس سے یہ تنے قدرتی طور پر ٹوٹتے اور پھٹتے گئے۔
آج پیٹریفائیڈ فاریسٹ نیشنل پارک دنیا میں پتھر بن جانے والے درختوں کے سب سے بڑے اور رنگا رنگ ذخائر میں شمار ہوتا ہے، جہاں آنے والے افراد کروڑوں سال پرانی اس قدرتی تاریخ کو قریب سے دیکھ سکتے ہیں۔