پاکستانی اداکار گوہر رشید نے عورت مارچ کے بعض پوسٹرز کے انداز پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کے حقوق جیسے اہم موضوعات پر بات کرتے ہوئے اظہارِ خیال بھی مہذب اور باوقار ہونا چاہیے۔
حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے گوہر رشید نے کہا کہ خواتین کو کسی بھی صورت میں بطور جنسی شے پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق فلموں میں آئٹم نمبرز بھی خواتین کو اوبجیکٹیفائی کرتے ہیں، اس لیے ایسے رجحانات کی حمایت نہیں کی جانی چاہیے۔
اداکار کا کہنا تھا کہ عورت مارچ کے دوران بعض پوسٹرز کا انداز ایسا ہوتا ہے جو کئی افراد کو نامناسب یا غیر مہذب محسوس ہوتا ہے، جبکہ خواتین کے حقوق سے متعلق مطالبات زیادہ مؤثر اور باوقار انداز میں بھی پیش کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر خواتین کو اوبجیکٹیفائی کرنا غلط ہے تو خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے ہوئے بھی ایسے طریقوں سے گریز کیا جانا چاہیے جو متنازع یا نامناسب تاثر پیدا کریں۔
گوہر رشید کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔ بعض صارفین نے ان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ عورت مارچ کے کچھ پوسٹرز واقعی غیر مناسب ہوتے ہیں، جبکہ دیگر نے ان کی رائے سے اختلاف کیا۔
کئی صارفین نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ خواتین کے حقوق سے متعلق دیگر سنگین مسائل، خصوصاً خواتین پر تشدد، ہراسانی اور بچوں کے ساتھ زیادتی جیسے موضوعات پر بھی اسی شدت سے توجہ دی جانی چاہیے۔