یوگنڈا سے تعلق رکھنے والے 102 بچوں کے والد موسیٰ ہساحیا نے مزید اولاد نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث اتنے بڑے خاندان کی کفالت اب ممکن نہیں رہی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق موسیٰ ہساحیا ایک کسان ہیں اور ان کی 12 بیویاں ہیں۔ ان کے خاندان میں 102 بچوں کے علاوہ 500 سے زائد پوتے اور نواسے بھی شامل ہیں۔
موسیٰ ہساحیا کا کہنا ہے کہ خوراک، صحت اور تعلیم کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے ان کے لیے اتنے بڑے خاندان کی ضروریات پوری کرنا انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی ہدایت پر ان کی متعدد بیویوں نے بھی مزید بچوں کی پیدائش روکنے کے لیے مانع حمل طریقے اختیار کر لیے ہیں، کیونکہ خاندان اب مزید افراد کا بوجھ اٹھانے کی استطاعت نہیں رکھتا۔
ان کا کہنا تھا کہ اتنے بڑے خاندان کی دیکھ بھال روز بروز مشکل ہوتی جا رہی ہے اور ہر فرد کی بنیادی ضروریات پوری کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ 102 بچوں کے والد کی یہ کہانی سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جہاں صارفین خاندان کے حجم، والدین کی ذمہ داری اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات پر مختلف آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔