ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ پابندیوں کی شدت میں اضافہ امریکا کی پالیسی نہیں بلکہ عادت بن چکی ہے ، امریکی وزیرِ خزانہ نے اقتصادی پابندیوں کے ذریعے ایران کا ‘دم گھونٹنے’ پر فخر کا اظہار کیا ہے۔
تفصیلات سماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ امریکا کی پابندیوں کے جنون کی ایک واضح مثال ہے، جب بھی واشنگٹن سفارتکاری سے معاملات آگے بڑھانے میں ناکام ہوتا ہے پابندیوں کا سہارا لیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب پابندیاں مطلوبہ نتائج میں ناکام ہوتی ہیں تو امریکا ان کی شدت میں اضافہ کردیتا ہے، اب یہ محض امریکا کی پالیسی نہیں رہی بلکہ عادت بن چکی ہے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا کا یہ ایک ایسا جنون بن چکا ہے جس نے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم کردی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران ان فرسودہ اور بار بار دہرائےجانے والے حربوں کے ذریعے گھٹنے نہیں ٹیکے گا، امریکی سیاستدان اس بحران سے نسبتاً کم رسوائی کیساتھ نکلنے کے باقی ماندہ امکانات بھی ختم کردیں گے۔
اس سے قبل ایک بیان میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا تھا کہ مذاکرات اور سفارتکاری نے امریکا کو مجبور کیا ہے کہ وہ ایران کےساتھ مفاہمت اختیار کرے، معاہدے پر پہنچنے کیلئے موجودہ صورتحال بہترین وقت ہے۔
ایرانی صدرپزشکیان نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکا کیلئے ضروری تھا کہ وہ ایران اور عمان کی جانب سے مشترکہ طور پر تیار گائیڈلائنز پر عمل کرے تاہم امریکا نے یہ نہیں کیا جس پر ایران کو ردعمل دینا پڑا۔
ایرانی صدر نے کہا کہ قومی اتحاد اور مزاحمت ہی ملک کی سکیورٹی اور دفاعی صلاحیتوں کا تحفظ کرنے کیلئے لازم ہیں۔ موجودہ صورتحال میں ایرانی عوام کو استقامت اور مزاحمت جاری رکھنا ہوگی۔