صدرِ مملکت کا بڑا قدم، ملک کی مختلف ہائیکورٹس میں ایڈیشنل ججز کی توثیق و تقرری کی منظوری

صدرِ مملکت کا بڑا قدم، ملک کی مختلف ہائیکورٹس میں ایڈیشنل ججز کی توثیق و تقرری کی منظوری

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ملک کی مختلف ہائیکورٹس میں ایڈیشنل ججز کی تقرری، بعض ایڈیشنل ججز کی بطور مستقل ججز توثیق اور سپریم کورٹ کے ججز کے مالیاتی و مراعاتی امور کو وفاقی آئینی عدالت کے ججز کے مساوی کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

اس اہم پیش رفت سے عدلیہ میں زیرِ التوا تقرریوں کا دیرینہ تعطل ختم ہو گیا ہے اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر پٹیشن بھی غیر موثر ہو گئی ہے۔

ہائیکورٹس میں ججز کی تقرریاں اور توثیق

صدرِ مملکت نے آئینی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ، سندھ ہائی کورٹ، پشاور ہائی کورٹ، اسلام آباد ہائی کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ میں ایڈیشنل ججز کی تقرری کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ سندھ ہائیکورٹ اور لاہور ہائیکورٹ کے بعض ایڈیشنل ججز کی بطور مستقل ججز توثیق بھی کر دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان کے معاشی استحکام میں آئی ایم ایف پروگرام کے کردار کو سراہا

ان فیصلوں کے بعد اب توقع کی جا رہی ہے کہ تمام متعلقہ عدالتوں میں جلد ہی ججز کی حلف برداری کی تقاریب منعقد کی جائیں گی، جس سے عدالتی امور میں تیزی آئے گی اور سائلین کو بروقت انصاف کی فراہمی میں مدد ملے گی۔

ججز کے مالیاتی امور اور مراعات میں ترامیم

ایک اور اہم فیصلے کے تحت صدرِ مملکت نے سپریم کورٹ کے ججز کی تنخواہوں، الاؤنسز اور پنشن کو وفاقی آئینی عدالت کے ججز کے مساوی کرنے کی منظوری دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عدلیہ کے مختلف اداروں کے درمیان مالیاتی اور انتظامی ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔

مزید برآں، صدرِ مملکت نے ہائیکورٹ کے ججز کی رخصت، پنشن اور مراعات سے متعلق 1997 کے حکم نامے میں بھی ضروری ترامیم کی منظوری دے دی ہے، جس سے ججز کی سروس اسٹرکچر سے متعلق دیرینہ مطالبات اور بہتری کی راہیں ہموار ہوئی ہیں۔

ہارون اختر کی بطور مشیر تقرری

عدلیہ کی تقرریوں کے علاوہ انتظامی امور میں بھی ایک اہم تقرری عمل میں لائی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے ہارون اختر کو وزیرِ اعظم کا مشیر برائے صنعت و پیداوار مقرر کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

مزید پڑھیں:قوم تقسیم کو مسترد، خوشحال پاکستان کے لئے مل کر کام کرے : صدر مملکت آصف علی زرداری

اس تقرری کا مقصد صنعتی شعبے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنا اور ملکی پیداوار میں اضافہ کرنے کے لیے پالیسی سازی کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

قانونی تناظر

یاد رہے کہ جوڈیشل کمیشن کے 20 اور 21 جولائی کے اجلاسوں میں ملک بھر کی عدالتوں کے لیے 19 ایڈیشنل ججز کی تعیناتی، 5 ایڈیشنل ججز کی مستقلی اور ایک جج کی توسیع کی سفارش کی گئی تھی۔

تاہم، سمری پر طویل عرصے تک دستخط نہ ہونے کے باعث قانونی و سیاسی حلقوں میں گرما گرمی دیکھی جا رہی تھی۔

صورتحال اس وقت مزید قانونی موڑ پر پہنچی جب ججز سمری پر دستخط نہ کیے جانے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کر دی گئی۔

 آج ہی کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس معاملے پر وفاق اور وزارتِ قانون سے جواب بھی طلب کیا تھا، لیکن صدرِ مملکت کی جانب سے سمری پر دستخط کرنے کے نتیجے میں یہ عدلیہ کارروائی خود بخود غیر موثر ہو گئی ہے۔

عدلیہ کی مضبوطی اور انتظامی استحکام کی جانب ایک قدم

اس پورے واقعے کا اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صدرِ مملکت کی جانب سے ان سمریوں کی منظوری ملک کے عدلیہ اور انتظامی ڈھانچے دونوں کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

ججز کی تقرریوں میں تاخیر کے باعث عدالتوں پر کام کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا تھا اور انصاف کی بروقت فراہمی متاثر ہو رہی تھی۔

پٹیشن دائر ہونے اور عدالتی نوٹس کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر سرخیوں میں آیا، اور وقت پر دستخط ہونے سے ایک ممکنہ آئینی و قانونی تنازع ٹل گیا۔

دوسری جانب، سپریم کورٹ اور آئینی عدالت کے ججز کی مراعات کو یکساں کرنا اور ہارون اختر جیسے تجربہ کار شخص کو صنعت و پیداوار کا مشیر بنانا اس بات کا غماز ہے کہ حکومت بیک وقت عدلیہ کے استحکام اور معاشی و صنعتی بہتری کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے۔ ان فیصلوں سے نہ صرف عدالتی کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ ملک میں قانون کی بالادستی کا پیغام بھی مضبوط ہوگا۔

Related Articles