میڈیکل کالجز کی من مانی ختم، فیس بڑھانے والوں کے خلاف بڑا ایکشن

میڈیکل کالجز کی من مانی ختم، فیس بڑھانے والوں کے خلاف بڑا ایکشن

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے اجلاس میں میڈیکل کالجز کی جانب سے زائد فیسوں کی وصولی، خالی نشستوں اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی کارکردگی سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی مہیش کمار ملانی اور دیگر ارکان نے نجی میڈیکل کالجز کی جانب سے وصول کی جانے والی زائد فیسوں اور متعدد کالجز میں نشستیں خالی رہنے کا معاملہ اٹھایا۔ ارکان کمیٹی کا کہنا تھا کہ کئی میڈیکل کالجز میں میرٹ کم کرنے کے باوجود نشستیں پُر نہیں ہوسکیں، جس سے داخلوں اور فیسوں کے نظام پر سوالات پیدا ہورہے ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :پی ایم ڈی سی نے میڈیکل کالجز میں طلبہ کی مینٹل ہیلتھ اسکریننگ لازمی قرار دے دی

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ کوئی بھی میڈیکل کالج اپنی مرضی سے فیس میں اضافہ نہیں کرسکتا۔ ان کے مطابق 61 میڈیکل کالجز نے فیس بڑھانے کے لیے درخواستیں جمع کرائیں تاہم مقررہ معیار پر پورا اترنے والے صرف 35 کالجز کو فیس میں اضافے کی اجازت دی گئی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ فیسوں میں اضافے کا فیصلہ مقررہ ضوابط اور معیار کے مطابق کیا جاتا ہے، اس لیے کسی بھی ادارے کو من مانے طریقے سے طلبہ سے اضافی فیس وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

اجلاس میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے صدر نے بتایا کہ مقررہ حد سے زائد فیس وصول کرنے والے میڈیکل کالجز کو نوٹسز جاری کردیئے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سرکاری میڈیکل کالجز میں نشستوں کی تعداد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :شعبہ صحت میں اہم سنگ میل ، وزیراعلیٰ مریم نواز نے 3 ہسپتالوں کے افتتاحی شیڈول کی منظوری دیدی

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں نرسنگ کے شعبے سے متعلق امور پر بھی بریفنگ دی گئی۔ نرسنگ کونسل کے حکام نے بتایا کہ نرسنگ کالجز کی انسپکشن اور شکایات کے ازالے کا نظام مکمل طور پر ڈیجیٹل بنایا جارہا ہے، جس سے نگرانی کا عمل مزید شفاف اور مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔

اجلاس میں ارکان نے طبی تعلیم کے معیار، فیسوں کے تعین اور طلبہ کے مسائل کے حل کے لیے مؤثر نگرانی کی ضرورت پر زور دیا۔

editor

Related Articles