گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی ‘گیپکو’ کو نجی تحویل میں دینے کے عمل نے رفتار پکڑ لی ہے، جہاں 11 ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں نے اس کا 51 سے 100 فیصد حصص بمعہ انتظامی کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اپنی درخواستیں جمع کروا دی ہیں۔
جمع کروائے گئے اظہارِ دلچسپی میں ترکیہ کی 3 نامور کمپنیاں ‘ایکٹر الیکٹرک انرجی’، ‘جنویرا انرجی’ اور ‘چنگیز انرجی’ شامل ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ‘الشریف کانٹریکٹنگ اینڈ کمرشل ڈیولپمنٹ کمپنی’ نے بھی گیپکو کی خرید میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔
پاکستانی کاروباری اداروں میں سے اینگرو انرجی، سیفائر فائبرز، حب پاور ہولڈنگز، لکی سیمنٹ، شیرازی انویسٹمنٹس، آرٹسٹک ملنرز، فاطمہ گروپ، کے الیکٹرک، اور اے کے ڈی سیکورٹیز، فاسٹ کیبلز اور مغل اسٹیل پر مشتمل ایک الحاق بھی ریس میں شامل ہے۔
اہلیت کا جائزہ اور اگلا مرحلہ
وزیرِ اعظم کے مشیر برائے نجکاری اور چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں سرمایہ کاروں کا سامنے آنا حکومت کی شفاف پالیسیوں اور اس شعبے میں ممکنہ ترقی کا ثبوت ہے۔
موصول ہونے والے کوائف کی جانچ پڑتال طے شدہ معیار پر کی جائے گی، جس کے بعد کامیاب خریداروں کو تمام اندرونی معلومات کے لیے ورچوئل ڈیٹا روم تک رسائی دی جائے گی۔
نجکاری پروگرام
گیپکو حکومت کے پہلے مرحلے کے تحت پرائیویٹ کی جانے والی 3 بجلی کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی ‘فیسکو’ کے لیے پہلے ہی 12 درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، جبکہ اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی ‘آئیسکو’ کے لیے حتمی تاریخ 7 ستمبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
پاکستان کا توانائی کا شعبہ طویل عرصے سے سستی اور مسلسل بجلی کی فراہمی میں چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ گیپکو جیسے ادارے کو نجی شعبے کے حوالے کرنے سے نا صرف لائن لاسز میں کمی آنے کا امکانی فائدہ موجود ہے بلکہ اس میں تازہ غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کاری سے ٹیکنالوجی کا بہتر استعمال ممکن ہو سکے گا۔ نجی کمپنیوں کا انتظام سنبھالنا بالآخر صارفین کو بہتر اور معیاری سہولیات کی فراہمی میں اہم ثابت ہو سکتا ہے۔