وزارتِ توانائی کے اصلاحاتی ایجنڈے کے تحت بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی میں بہتری کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) نے نہ صرف اپنے لائن لاسز میں نمایاں کمی کرتے ہوئے ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا بلکہ صارفین کو ریلیف دیتے ہوئے خراب بجلی کے میٹروں کی تبدیلی کا دورانیہ بھی نمایاں حد تک کم کر کے صرف ایک ماہ کر دیا ہے۔
پاور ڈویژن کے ترجمان کے مطابق صارفین کے لیے ایک اہم ریلیف کے طور پر خراب بجلی کے میٹروں کی تبدیلی کے عمل کو بھی تیز کر دیا گیا ہے۔ پہلے اس عمل میں کئی ماہ لگ جاتے تھے تاہم شکایت درج ہونے کے بعد خراب میٹر صرف ایک ماہ میں تبدیل کیا جائے گا اس سلسلے مین تمام ڈسکوز کو خصوصی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں جس سے صارفین کو بروقت سہولت میسر آئے گی اور شکایات کے ازالے میں بھی بہتری آئے گی۔
ترجمان کے مطابق اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کے بعد گیپکو ملک کی دوسری بجلی تقسیم کار کمپنی بن گئی ہے جس کے لائن لاسز سنگل ڈیجیٹ یعنی ایک ہندسے تک محدود ہو گئے ہیں۔ مالی سال 2025-26 کے دوران مؤثر حکمت عملی، سخت مانیٹرنگ اور بجلی چوری کے خلاف کارروائیوں کے نتیجے میں گیپکو کے لائن لاسز 10.43 فیصد سے کم ہو کر 9.80 فیصد کی تاریخی کم ترین سطح پر آ گئے ہیں۔
ترجمان کے مطابق کمپنی کی بلنگ ریکوری میں بھی غیر معمولی بہتری آئی ہے اور وصولیوں کی شرح 100 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے جسے بجلی کے شعبے میں ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ بہترین مالیاتی نظم و ضبط کے باعث گردشی قرضے میں بھی گیپکو کا حصہ مسلسل صفر رہا، جو کمپنی کی مالی کارکردگی کا واضح ثبوت ہے۔
بجلی چوری کے خلاف جاری ملک گیر مہم کے دوران گیپکو نے گزشتہ ایک سال میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے 5.2 ارب روپے کی قومی بچت کی۔ حکام کے مطابق بجلی چوری کی روک تھام اور ریکوری نظام کو مؤثر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور ڈیٹا پر مبنی نگرانی کا نظام استعمال کیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے گیپکو کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کی مسلسل، شفاف اور جدید ڈیٹا پر مبنی نگرانی کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام ڈسکوز کے لائن لاسز اور ریکوری کی باقاعدہ بنیادوں پر مانیٹرنگ کی جا رہی ہے اور مقررہ اہداف کے حصول میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کے شعبے میں بلنگ اور ریکوری کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن حکومت کے توانائی اصلاحاتی ایجنڈے کا بنیادی حصہ ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف نظام میں شفافیت آئے گی بلکہ بجلی چوری، غلط بلنگ اور مالی نقصانات میں بھی نمایاں کمی ممکن ہوگی۔