اسلامک چیمبر آف کامرس اینڈ ڈیولپمنٹ ‘آئی سی سی ڈی’ کے سیکریٹری جنرل یوسف خلاوی کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی بڑی مسلم آبادی، بیرونِ ملک مقیم افراد، بڑھتی ہوئی اسلامی مالیاتی صنعت اور ماہرین کی بدولت عالمی حلال معیشت کا ایک اہم مرکز بن سکتا ہے۔
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ‘ایس ای سی پی’ کی ٹاک سیریز میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو اب صرف روایتی اسلامی بینکاری تک محدود رہنے کے بجائے ایسی مصنوعات تیار کرنی چاہییں جو مقامی کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی منڈیوں کی ضروریات کو بھی پورا کر سکیں، بالخصوص مالیاتی ٹیکنالوجی ‘فن ٹیک’ کے میدان میں پیش رفت لازمی ہے۔
وقف ماڈل اور سماجی و معاشی ترقی
یوسف خلاوی نے کہا کہ اسلامی مالیات کا مقصد صرف مالیاتی لین دین تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے وسیع تر سماجی و معاشی بہبود میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے شفافیت سے چلنے والے اور اسٹاک مارکیٹ میں درج شدہ ‘وقف’ سرمایہ کاری ماڈل کی تجویز دی، جس کے ذریعے عام شہریوں کے چھوٹے چھوٹے تعاون کو یکجا کر کے تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے کے بڑے منصوبوں کی مالی معاونت ممکن بنائی جا سکتی ہے۔
زرعی شعبے کی منصفانہ مالیات
انہوں نے زراعت کو پاکستان کی معیشت کا اہم ترین ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس شعبے کی حقیقی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے شریعت کے مطابق خاص مالیاتی حل اور ماہرانہ رہنمائی کی اشد ضرورت ہے۔
اس کے ساتھ ہی، انہوں نے ‘قرضِ حسنہ’ کو مزید مؤثر اور سستا بنانے کے لیے فن ٹیک کے استعمال پر زور دیا تا کہ ضرورت مندوں تک بغیر سود کے سرمائے کی رسائی آسان ہو سکے۔
اسلامی بینکاری کا فروغ
پاکستان میں حالیہ سالوں کے دوران اسلامی بینکاری نے تیزی سے فروغ پایا ہے اور حکومت و عدالت عالیہ کی جانب سے معیشت کو مکمل طور پر سود سے پاک بنانے کی سمت کام جاری ہے۔
اس وقت ملکی بینکاری نظام میں اسلامی بینکوں کا حصہ مسلسل بڑھ رہا ہے، لیکن بین الاقوامی سطح پر حلال مصنوعات کی برآمد اور اسلامی فن ٹیک میں پاکستان کی سہم داری اب بھی بنیادی مراحل میں ہے، جسے بہتر بنانے کے لیے یکساں شرعی معیار اور پیشہورانہ تربیت کی ضرورت ہے۔
عالمگیر سطح پر حلال معیشت کا حجم کھربوں ڈالر تک پہنچ چکا ہے جس میں غذا، ادویات، فیشن اور مالیات شامل ہیں۔ پاکستان کے پاس وسائل اور قدرتی صلاحیت موجود ہے، لیکن اس پر عملدرآمد کے لیے مضبوط پالیسی فریم ورک اور عالمی معیار پر پورا اترنے والی ٹیکنالوجی کی کمی آڑے آتی ہے۔
اگر ملک وقف ماڈل، زرعی صکوک اور فن ٹیک پر مبنی قرضِ حسنہ کو عملی جامہ پہناتا ہے، تو نہ صرف مقامی سطح پر غربت میں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ عالمی حلال منڈی میں بھی پاکستان کا حصہ نمایاں طور پر بڑھ سکتا ہے۔