قابض طالبان رجیم کےبدترین دورمیں افغانستان علاقائی اورعالمی دہشتگرد نیٹ ورکس کا گڑھ بن چکا ہے.
امریکی جریدہ ساؤتھ ایشیا جرنل کے مطابق افغانستان میں فتنہ الخوارج، داعش خراسان اورالقاعدہ سمیت مختلف عسکریت پسند گروہوں کی سرگرمیاں بدستور جاری
ہیں، مختلف نظریات کے حامل عسکریت پسند گروہ افغانستان میں اسلحے، تربیت اور سہولت کاری کے مشترکہ نیٹ ورکس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
ساؤتھ ایشیا جرنل کے مطابق پاکستان متعدد بار فتنہ الخوارج کے افغانستان سے ہونے والے سرحد پار حملوں کا معاملہ اٹھا چکا ہے، یواین رپورٹس نے افغانستان میں فتنہ الخوارج کی سرگرمیوں اور طالبان رجیم کی حمایت سے متعلق خدشات کو مزید تقویت دی۔
افغانستان میں عسکریت پسندوں کی مستقل پناہ گاہیں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی اور علاقائی انضمام کو کمزور کر سکتی ہیں، افغان نیشنل ریزسٹینس فرنٹ کے سربراہ احمد مسعود بھی افغان طالبان کی سرپرستی میں دہشتگردوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کی تصدیق کرچکے ہیں۔
افغانستان میں عسکریت پسند تنظیموں کی موجودگی سے متعلق رپورٹس واضح ثبوت ہیں کہ افغان طالبان رجیم ہی ان کی سرپرست اعلیٰ ہے۔