خیبر پختونخوا میں اکتوبر 2025 سے اب تک 827 سرکاری افسران و ملازمین کے خلاف احتسابی کارروائی کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں 589 اہلکاروں کو مختلف سزائیں دی جا چکی ہیں جبکہ 198 کیسز زیرِ عمل ہیں۔
ڈان نیوزکی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں 128 ملازمین کو ملازمت سے برطرف کرنے کی تصدیق کی گئی ہے اور باقی تمام کیسز فوری طور پر نمٹانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطح کے جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں اکتوبر 2025 سے شروع ہونے والی احتسابی مہم کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ کل 827 مقدمات میں سے 629 کیسز پر فیصلے جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ 40 ملازمین کو تمام تر الزامات سے بری کر دیا گیا ہے۔ جن ملازمین کے خلاف الزامات ثابت ہوئے ہیں، ان میں سے 128 ملازمین کو نوکریوں سے یکسر برطرف، 18 ملازمین کو ملازمت سے الگ، اور 6 کو جبری ریٹائر کر دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ 2 اہلکاروں کو تنزلی کا سامنا کرنا پڑا، 1 کو گرفتار کیا گیا، 89 ملازمین سے تنخواہوں کی وصولی کے احکامات جاری ہوئے اور 39 افسران کی ترقیاں روک دی گئی ہیں۔
مزید برآں 16 ملازمین کو چارج شیٹ جاری کی گئی، 14 کی تنخواہوں میں کٹوتی کی گئی اور 10 کو معطل کیا گیا۔ معمولی نوعیت کی خلاف ورزیوں پر 155 ملازمین کو انتباہی خطوط اور 52 کو سرزنش کی گئی۔
بلا اجازت غیر حاضری سرِفہرست
سرکاری محکموں میں ہونے والی بے ضابطگیوں کے اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بلا اجازت ڈیوٹی سے غائب رہنا سب سے بڑا جرم ثابت ہوا۔ کل مقدمات میں سے 447 کیسز یعنی 54 فیصد معاملات محض غیر حاضری سے متعلق تھے۔
ڈیوٹی میں غفلت کے 120 مقدمات، بدعنوانی اور مالی بے ضابطگیوں کے 75 کیسز، جبکہ نااہلی کے بھی 75 کیسز رپورٹ ہوئے۔ اس کے علاوہ بدسلوکی کے 14، ناقص نگرانی کے 13 اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے 11 کیسز درج کیے گئے۔
ان تمام معاملات کی چھان بین کے دوران 221 ‘شوکاز’ نوٹس جاری کیے گئے، 279 کیسز میں وضاحتیں طلب کی گئیں، 184 تحقیقات کی گئیں، 102 معطلیاں ہوئیں، 23 ناخوشی کے خطوط جاری کیے گئے جبکہ 9 افسران کو ‘او ایس ڈی’ بنا دیا گیا۔
محکموں کی تقسیم اور فیلڈ دوروں پر کریک ڈاؤن
محکمانہ بنیادوں پر دیکھا جائے تو سب سے زیادہ 305 کیسز ضلعی دفاتر سے سامنے آئے، جبکہ 263 کیسز ملحقہ اداروں اور 259 کیسز مرکزی محکموں سے متعلق تھے۔
اجلاس کو خاص طور پر صحت کے مراکز کے فیلڈ دوروں کے دوران کی جانے والی فوری کارروائیوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔
ان اچانک دوروں کے دوران ضلعی ہیڈ کوارٹر اسپتال صوابی کے 90 افسران و ملازمین کو موقع پر معطل کیا گیا، جبکہ ضلعی ہیڈ کوارٹر اسپتال لکی مروت کے بھی 61 افسران اور اہلکاروں کے خلاف معطلی کے احکامات جاری کیے گئے۔
خیبر پختونخوا کے سرکاری اداروں، بالخصوص ضلعی سطح کے دفاتر اور اسپتالوں میں ملازمین کی غیر حاضری اور ڈیوٹی سے غفلت ایک دیرینہ مسئلہ رہا ہے۔
عام شہریوں کی جانب سے مسلسل یہ شکایات موصول ہو رہی تھیں کہ بنیادی صحت کے مراکز اور بلدیاتی دفاتر میں عملہ موجود نہیں ہوتا۔
اسی صورتحال کے تدارک کے لیے صوبائی حکومت نے اکتوبر 2025 سے ایک جامع اور سخت احتسابی مہم کا آغاز کیا تھا تاکہ سرکاری محکموں کی کارکردگی کو شفاف بنایا جا سکے اور عوام کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔
واضح رہے کہ 54 فیصد مقدمات کا صرف غیر حاضری پر مبنی ہونا اس حقیقت کو بھی بے نقاب کرتا ہے کہ سرکاری اداروں میں حاضری کے روایتی نظام میں سنگین سقم موجود ہیں۔
اگرچہ 128 برطرفیاں اور 89 ملازمین سے رقم کی وصولی ایک سخت انتظامی ڈسپلن کا پیغام دیتی ہے، لیکن اصل امتحان ان 198 التوا شدہ کیسز کی شفاف اور فوری تکمیل ہے۔
صوابی اور لکی مروت کے ہسپتالوں میں درجنوں ملازمین کی معطلی یہ ثابت کرتی ہے کہ سروس ڈیلیوری کی بہتری کے لیے محض کاغذی احکامات نہیں بلکہ مسلسل فیلڈ وزٹس ہی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔