بجلی کی قیمت میں بڑا اضافہ، نئی شرح سامنے آگئی

بجلی کی قیمت میں بڑا اضافہ، نئی شرح سامنے آگئی

درآمدی آر ایل این جی سے بجلی کی پیداوار کی لاگت میں بڑا اضافہ ہوگیا فی یونٹ بجلی کی قیمت 22 روپے سے بڑھ کر 48 روپے تک پہنچ گئی جس پر صنعتکاروں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے صنعت کے لیے خطرے کی علامت قرار دیا ہے۔

آل پاکستان فوڈ ایسوسی ایشن کے صدر راشد صدیقی کا کہنا ہے کہ درآمدی گیس سے پیدا ہونے والی بجلی 48 روپے فی یونٹ پڑنے سے عوام کے ساتھ ساتھ صنعت کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بجلی مہنگی ہونے سے صنعتوں کی پیداواری لاگت مزید بڑھ جائے گی جس کا اثر اشیائے ضروریہ اور برآمدی مصنوعات کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔

راشد صدیقی کے مطابق جولائی کے لیے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بھی 2 روپے 53 پیسے فی یونٹ اضافی وصولی کی درخواست کی گئی ہے جس سے بجلی کے اخراجات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بجلی کا بل کم ہوگا؟ نیپرا نے نیا نظام لانے کی تجویز دے دی

انہوں نے کہا کہ توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ پاکستان کی صنعت اور برآمدات کے لیے نقصان دہ ہے۔ بیرون ملک خریدار پاکستان میں پیداواری لاگت کاروباری ماحول اور توانائی کی قیمتوں کے استحکام کو بھی مدنظر رکھتے ہیں۔

صدر آل پاکستان فوڈ ایسوسی ایشن کے مطابق توانائی اور کاروباری لاگت میں مسلسل اضافہ پاکستانی صنعت کی عالمی مارکیٹ میں مقابلے کی صلاحیت کم کررہا ہے۔ حکومت کو ایسے فیصلوں سے گریز کرنا چاہیے جن سے کاروباری لاگت مزید بڑھے۔

راشد صدیقی نے زور دیا کہ معاشی استحکام کے لیے توانائی کی قیمتوں کے حوالے سے مستقل، واضح اور قابلِ پیش گوئی پالیسی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بار بار پیدا ہونے والے توانائی کے بحران اور قیمتوں میں اضافہ ملکی معیشت کی ترقی کی رفتار کو متاثر کررہے ہیں

Qaisar Mirza
editor

Related Articles