گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں سے متعلق سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں سے متعلق سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

سپریم کورٹ نے گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں کے تعین سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا اور گھی مینوفیکچررز کی جانب سے اجتماعی طور پر قیمت مقرر کرنے کے اقدام کو مسابقتی قانون کی خلاف ورزی قرار دے دیا۔

عدالت نے واضح کیا کہ ہر کمپنی کو اپنی مصنوعات کی قیمت آزادانہ طور پر مقرر کرنا ہوگی کمپنیوں کی جانب سے اجتماعی طور پر قیمت طے کرنا مارکیٹ میں مسابقت کو محدود کرتا ہے، چاہے اس اقدام کے نتیجے میں صارفین کو کم قیمت پر مصنوعات دستیاب ہی کیوں نہ ہوئی ہوں۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ قیمت کم ہونا بذاتِ خود مسابقتی قانون کی خلاف ورزی نہیں، اصل مسئلہ قیمت کا اجتماعی طور پر طے کیا جانا ہے۔ عدالت کے مطابق اجتماعی قیمت کا تعین کمپنیوں کے آزادانہ تجارتی فیصلوں کو متاثر کرتا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ کسی ایسوسی ایشن کی سفارش اگر کمپنیوں کے تجارتی رویے پر اثرانداز ہو تو اسے بھی فیصلہ تصور کیا جاسکتا ہے۔ عوامی مفاد میں قیمت کم کرنے کا مقصد اجتماعی طور پر قیمت مقرر کرنے کے عمل کو قانونی جواز فراہم نہیں کرتا۔

یہ بھی پڑھیں:بجلی کا بل کم ہوگا؟ نیپرا نے نیا نظام لانے کی تجویز دے دی

سپریم کورٹ نے گھی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کی اجتماعی قیمت پالیسی کے خلاف مسابقتی کمیشن اور ٹربیونل کے بنیادی فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ حکومت کی درخواست پر گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتیں کم کرنے کے لیے صنعت سے مذاکرات ہونا بھی مسابقتی قانون کی خلاف ورزی سے استثنیٰ نہیں دیتا۔

فیصلے کے مطابق حکومت نے قیمتیں کم کرانے کی نیت سے صنعت سے مذاکرات کیے تھے اور عدالت نے حکومت کی جانب سے قیمتیں کم کرانے کے مقصد پر اعتراض نہیں کیا، تاہم مسابقتی کمیشن کو بائی پاس کرکے ایسوسی ایشن کے ذریعے اجتماعی قیمت طے کرنے کا طریقہ درست قرار نہیں دیا جاسکتا۔

سپریم کورٹ نے یہ بھی قرار دیا کہ معاملہ خفیہ ملی بھگت یا پوشیدہ کارٹل کا نتیجہ نہیں تھا تاہم اجتماعی طور پر قیمت مقرر کرنے کا عمل پھر بھی مسابقتی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

جرمانے کے معاملے میں عدالت نے گھی مینوفیکچررز کے خلاف عائد 5 کروڑ روپے کا جرمانہ کم کرکے 3 کروڑ روپے کردیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے 5 کروڑ روپے کا جرمانہ زائد تھا۔

سپریم کورٹ نے گھی مینوفیکچررز کی اپیل جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے خلاف ورزی سے متعلق کمیشن اور ٹربیونل کے نتائج برقرار رکھے، تاہم جرمانے کی رقم میں کمی کردی۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles