پی ٹی آئی کی حکومت مخالف توہینِ عدالت کی درخواست سپریم کورٹ رجسٹرار نے اعتراض لگا کر واپس کردی

پی ٹی آئی کی حکومت مخالف توہینِ عدالت کی درخواست سپریم کورٹ رجسٹرار نے اعتراض لگا کر واپس کردی

سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے حکومت کے خلاف توہین عدالت کی دائر درخواست اعتراض لگا کر واپس کر دی ہے جبکہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے اعتراضات دور کر کے اسے دوبارہ دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے 18 اگست کے فیصلے پر عمل نہ ہونے پر توہینِ عدالت کی درخواست پر عائد اعتراضات دور کر کے اسے دوبارہ دائر کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا معاملہ،حکومتی نظرثانی درخواست مقررہ باری پر ہی سنی جائے گی

سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ جمعرات کو سماعت کے لیے آج ہی بینچ تشکیل دیا جائے اور بانی کی صحت کے پیشِ نظر ان کے اہل خانہ سے فوری ملاقات کرائی جائے۔

رجسٹرار سے ملاقات اور اعتراضات پر ردِعمل

بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ ان کی سپریم کورٹ کے عوامی سہولت سینٹر میں رجسٹرار سے ملاقات ہوئی، جہاں انہیں آگاہ کیا گیا کہ ان کی جانب سے جمع کرائی گئی توہینِ عدالت کی درخواست پر اعتراض عائد کر دیا گیا ہے۔

رجسٹرار کی جانب سے درخواست کی فائل واپس کر دی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قانونی ٹیم اعتراضات کو جلد از جلد دور کر کے توہینِ عدالت کی درخواست دوبارہ دائر کرے گی۔

ان کی استدعا ہے کہ جس بینچ نے 18 اگست کا فیصلہ سنایا تھا، وہی بینچ آج ہی تشکیل دیا جائے تاکہ کیس کی باقاعدہ سماعت جمعرات کے روز ممکن ہو سکے۔

بانی کی صحت اور اہل خانہ سے ملاقات کا مطالبہ

میڈیا سے بات چیت کے دوران بیرسٹر گوہر نے بانی کی موجودہ صورتحال پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بانی کی صحت ان کے لیے اور پوری قوم کے لیے انتہائی اہم اور حساس معاملہ ہے۔

انہوں نے حکام سے پرزور اپیل کی کہ عمران خان کے فیملی ممبران کی ان سے فوری اور بلا تعطل ملاقات کا اہتمام کیا جائے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘ہم اپنا وعدہ پورا کر چکے ہیں’، اس لیے اب انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے وعدوں اور عدالتی احکامات کی پاسداری کو یقینی بنائیں۔

عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے 18 اگست کو بانی کی ملاقاتوں اور سہولیات کے حوالے سے جاری کردہ احکامات پر عدم عمل درآمد کے باعث پاکستان تحریک انصاف  نے توہینِ عدالت کے قانونی راستے کو اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔

مزید پڑھیں:عمران خان کی ہسپتال منتقلی، حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد شروع کردیا

بانی کی جیل میں موجودگی کے دوران ان کی صحت کے بارے میں متنازع خبریں اور فیملی و وکلا سے ملاقاتوں پر عائد مبینہ پابندیاں سیاسی محاذ پر مسلسل شدید تناؤ کا سبب بنی ہوئی ہیں، جس کے تدارک کے لیے پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم بار بار عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹا رہی ہے۔

بیرسٹر گوہر کا سپریم کورٹ کے باہر یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھانے کے ساتھ ساتھ عدالتی محاذ پر بھی سخت حکمتِ عملی اختیار کر رہی ہے۔ 18 اگست کے فیصلے کی عملداری نہ ہونا انتظامیہ اور عدلیہ کے درمیان انتظامی توازن پر سوالات کھڑے کرتا ہے۔

رجسٹرار کی جانب سے اعتراض کے بعد فائل کی واپسی نے اگرچہ عارضی تاخیر پیدا کی ہے، لیکن ’آج ہی بینچ بنانے‘  اور ‘جمعرات کی سماعت’ کی استدعا کے ذریعے پی ٹی آئی کیس کو التوا سے بچانا چاہتی ہے۔

بانی کی صحت اور فیملی ملاقات کے انسانی اور سیاسی پہلو کو توہینِ عدالت کے ساتھ جوڑ کر پی ٹی آئی عدلیہ سے فوری ریلیف حاصل کرنے کی کوشش میں ہے۔

Related Articles