اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے کہا ہے کہ ایران اور یوکرین میں جاری جنگوں نے ثابت کردیا ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتوں کی قوت بھی محدود ہے اور وہ محض فوجی طاقت کے ذریعے اپنی مرضی دوسرے ممالک پر مسلط نہیں کرسکتیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی حالات طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلی کی نشاندہی کررہے ہیں اور طاقتور ممالک کو اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا۔
انتونیو گوتیرس نے ایک حالیہ انٹرویو میں عالمی سیاست میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ روس اور یوکرین کی طویل جنگ اور امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع نے یہ واضح کردیا ہے کہ بڑی طاقتوں کے پاس بھی اپنے اہداف حاصل کرنے کی مکمل صلاحیت نہیں رہی۔ ان کے مطابق عالمی طاقت کا پرانا نظام تبدیل ہورہا ہے اور دنیا بتدریج کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔
بڑی طاقتوں کو اپنی حدود سمجھنا ہوں گی
اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ سپر پاورز اپنی طاقت کی حدود کو سمجھیں۔ ان کے مطابق حالیہ جنگوں سے یہ سبق ملتا ہے کہ محض فوجی طاقت اور وسائل کی بنیاد پر عالمی سطح پر اپنی مرضی مسلط کرنا اب پہلے کی طرح ممکن نہیں رہا۔
گوتیرس نے روس اور یوکرین کی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روس نے جنگ کے آغاز پر مختصر مدت میں کامیابی حاصل کرنے کی توقع کی تھی تاہم تنازع طویل ہوگیا۔ اسی طرح انہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو بھی بڑی طاقت کے لیے ایک مشکل صورتحال قرار دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ طاقتور ممالک کے لیے اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرنا آسان نہیں رہا۔
دنیا میں طاقت کا توازن تبدیل ہورہا ہے
انتونیو گوتیرس نے کہا کہ عالمی سیاست اب اس دور سے گزر رہی ہے جس میں ایک ہی طاقت عالمی معاملات پر غالب اثر رکھتی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف ممالک کی معاشی اور سیاسی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں عالمی طاقت کا توازن بھی تبدیل ہورہا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر دنیا میں پیدا ہونے والے نئے کثیر قطبی نظام کو مؤثر عالمی اداروں اور مناسب قواعد کے ذریعے منظم نہ کیا گیا تو طاقت کا یہ نیا توازن مزید کشیدگی اور تنازعات کا باعث بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ عالمی اداروں کو بدلتی ہوئی عالمی حقیقتوں کے مطابق خود کو ڈھالنے کی ضرورت ہے۔
بورڈ آف پیس سے اقوام متحدہ کو خطرہ نہیں
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قائم کردہ بورڈ آف پیس کے حوالے سے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ یہ ادارہ اقوام متحدہ کے لیے کسی بڑے خطرے کا باعث بن سکتا ہے یا اقوام متحدہ کے کردار کو ختم کرسکتا ہے۔
گوتیرس نے غزہ کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بورڈ آف پیس کی جانب سے امن کے قیام کے حوالے سے محدود پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں اقوام متحدہ کو اس ادارے سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔
بورڈ آف پیس کے حوالے سے اقوام متحدہ کا مؤقف مکمل طور پر محاذ آرائی پر مبنی نہیں رہا۔ اس سے قبل گوتیرس نے کہا تھا کہ غزہ کی تعمیر نو سے متعلق جن مقاصد کی منظوری دی گئی ہے ان پر اقوام متحدہ بورڈ آف پیس سے تعاون کررہا ہے۔
سلامتی کونسل میں اصلاحات کی ضرورت
گوتیرس نے عالمی نظام میں اقوام متحدہ کے کردار اور سلامتی کونسل کی موجودہ ساخت پر بھی توجہ دلائی۔ ان کے مطابق دنیا میں طاقت کا توازن تبدیل ہوچکا ہے اس لیے عالمی اداروں میں بھی ان تبدیلیوں کی عکاسی ہونی چاہیے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کثیر قطبی دنیا کے لیے عالمی اداروں کو مؤثر انداز میں تبدیل نہ کیا گیا تو مختلف طاقتوں کے درمیان مقابلہ مزید شدید ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق عالمی برادری کو ایسے نظام کی ضرورت ہے جو مختلف ممالک کو نمائندگی دے اور تنازعات کے حل کے لیے مؤثر سفارتی راستے فراہم کرے۔
انتونیو گوتیرس کے تازہ بیان کو عالمی سیاست میں طاقت کے بدلتے ہوئے توازن کے حوالے سے اہم قرار دیا جارہا ہے۔ ایران اور یوکرین کے تنازعات نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ موجودہ عالمی نظام بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور طویل جنگوں سے نمٹنے کی کتنی صلاحیت رکھتا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا کہنا ہے کہ مستقبل میں طاقت کے بجائے سفارت کاری اور مؤثر عالمی تعاون کو زیادہ اہمیت دینا ہوگی۔