کینیڈا کا امریکی مصنوعات پر 50 فیصد جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان

کینیڈا کا امریکی مصنوعات پر 50 فیصد جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان

امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ کینیڈا نے امریکا کی سیکڑوں مصنوعات پر 50 فیصد تک جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ کینیڈین حکومت کے مطابق نئے محصولات ستمبر سے نافذ ہوں گے۔ اس اقدام کے بعد دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان جاری تجارتی تنازع مزید شدت اختیار کرنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق کینیڈا کی جانب سے امریکی مصنوعات پر عائد کیے جانے والے نئے جوابی محصولات میں اسٹیل اور ایلومینیم کی بعض مصنوعات کے علاوہ ڈیری مصنوعات۔ الیکٹرانکس۔ زرعی آلات۔ فرنیچر۔ ملبوسات اور پلپ اینڈ پیپر سے متعلق اشیا شامل ہوں گی۔ کینیڈین حکام کا کہنا ہے کہ مختلف امریکی مصنوعات پر عائد ٹیرف کی شرح 50 فیصد تک ہوگی۔

کینیڈین حکومت نے امریکی محصولات سے متاثر ہونے والے کاروباری افراد اور صنعتوں کی مدد کے لیے 7.5 ارب ڈالر کے امدادی پیکیج کا اعلان بھی کیا ہے۔ اس پیکیج کا مقصد امریکی اقدامات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی دباؤ کو کم کرنا اور متاثرہ شعبوں کو سہارا فراہم کرنا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :تجارتی مذاکرات ناکام : کینیڈا کا امریکا پر جوابی ٹیرف لگانے کا اعلان

کینیڈین حکومت کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ نئے محصولات میں بعض اسٹیل اور ایلومینیم مصنوعات کے ساتھ فرنیچر اور ملبوسات بھی شامل ہیں۔ کینیڈا کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ نئے محصولات 8 ستمبر سے نافذ العمل ہوں گے۔

کینیڈین وزیر خزانہ نے اوٹاوا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے موجودہ صورتحال کو ملک کے لیے ایک بے مثال چیلنج قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا کو مشکل صورتحال کا سامنا ہے تاہم ملک اس صورتحال کا بھرپور مقابلہ کرے گا۔

دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تنازع میں حالیہ دنوں کے دوران تیزی آئی ہے۔ یہ تنازع اس وقت مزید سنگین ہوگیا جب ہفتے کے اختتام پر دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک نہ پہنچ سکے۔ مذاکرات کی ناکامی کے بعد امریکا نے کینیڈین مصنوعات پر نئے محصولات نافذ کردیے تھے۔

 یہ بھی پڑھیں :امریکہ نے تجارتی ٹیرف کے اطلاق کا آغاز کر دیا،پاکستان کو بھارت کے مقابلے میں نمایاں رعایت مل گئی

امریکی اقدام کے تحت 22 اگست سے کینیڈا کی مصنوعات پر 27.6 ارب ڈالر مالیت کے سامان کے حوالے سے 50 فیصد ٹیرف عائد کیے گئے تھے۔ کینیڈا نے اب ان اقدامات کے جواب میں امریکی مصنوعات پر جوابی محصولات عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تجارتی محصولات میں اضافے سے امریکا اور کینیڈا کے درمیان دوطرفہ تجارت پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑی مقدار میں اشیا کی خرید و فروخت ہوتی ہے اور تجارتی پالیسی میں بڑی تبدیلیاں کاروباری اداروں اور صنعتوں پر براہ راست اثر انداز ہوسکتی ہیں۔

کینیڈا کی جانب سے 50 فیصد تک جوابی ٹیرف اور متاثرہ شعبوں کے لیے اربوں ڈالر کے امدادی پیکیج کے اعلان سے واضح ہوتا ہے کہ اوٹاوا امریکی محصولات کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے بڑے اقدامات کررہا ہے۔ دوسری جانب نئے محصولات کے نفاذ کے بعد امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہونے کا امکان ہے۔

editor

Related Articles