پمز سانحہ کے بعد پنجاب کے ہسپتالوں میں ہائی الرٹ، اہم ہدایات جاری

پمز سانحہ کے بعد پنجاب کے ہسپتالوں میں ہائی الرٹ، اہم ہدایات جاری

لاہور میں پمز سانحے کے بعد پنجاب کے سرکاری اسپتالوں میں فائر سیفٹی انتظامات کا ازسرنو جائزہ لینے کے لیے اہم اقدامات شروع کردیے گئے ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے کی انتظامیہ اور تمام سرکاری اسپتالوں کو فوری طور پر فریش فائر سیفٹی آڈٹ کرانے کی ہدایت کردی ہے اور متعلقہ حکام سے 24 گھنٹے کے اندر رپورٹ طلب کرلی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے جاری ہدایات میں واضح کیا گیا ہے کہ ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ہدایات کے تحت صوبے بھر میں سرکاری ہسپتالوں میں آگ سے بچاؤ کے موجودہ انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کو یقینی بنایا جاسکے۔

تمام سرکاری ہسپتالوں کا فائر سیفٹی آڈٹ

مریم نواز کی ہدایت کے مطابق تمام ڈپٹی کمشنرز اپنے اپنے اضلاع میں فائر سیفٹی انتظامات کا جائزہ لیں گے۔ اس عمل کے دوران ٹیچنگ ہسپتالوں کے علاوہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتالوں اور تحصیل ہیڈکوارٹرز ہسپتالوں کا بھی معائنہ کیا جائے گا۔

 یہ بھی پڑھیں :پمز سانحہ، پی ٹی آئی کی تنقید پر 2020 کا خیبر ٹیچنگ ہسپتال واقعہ بھی زیرِ بحث

اس کے ساتھ مریم نواز ہسپتالوں اور مریم نواز ہیلتھ کلینکس میں بھی آگ سے بچاؤ کے انتظامات کا جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حکام اس بات کا جائزہ لیں گے کہ ہسپتالوں میں فائر ایکسٹنگوشرز اور آگ بجھانے کے دیگر ضروری آلات دستیاب ہیں یا نہیں اور موجود سہولیات ہنگامی صورتحال میں مؤثر طریقے سے کام کرنے کی حالت میں ہیں یا نہیں۔

ہنگامی اخراج کے راستوں کا بھی جائزہ

فائر سیفٹی آڈٹ کے دوران ہسپتالوں میں ہنگامی اخراج کے راستوں کی دستیابی اور ان کی حالت بھی چیک کی جائے گی۔ حکام اس بات کا جائزہ لیں گے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مریضوں اور ہسپتال کے عملے کو محفوظ طریقے سے باہر نکالنے کے لیے مناسب راستے موجود ہیں یا نہیں۔

اس حوالے سے ریسکیو 1122 کی ٹیموں سے بھی مشاورت کی جائے گی۔ متعلقہ حکام ریسکیو ٹیموں کے ساتھ مل کر ایمرجنسی کی صورت میں فوری کارروائی اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے انتظامات کا جائزہ لیں گے۔

24 گھنٹے میں رپورٹ طلب

وزیراعلیٰ پنجاب نے تمام ہسپتالوں کی انتظامیہ کو فریش فائر سیفٹی آڈٹ فوری مکمل کرنے اور اس کی رپورٹ 24 گھنٹے میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ تمام اضلاع سے حاصل ہونے والی معلومات کو یکجا کرکے جامع رپورٹ تیار کی جائے گی جو وزیراعلیٰ کو پیش کی جائے گی۔

ہدایت کے مطابق تمام ڈویژنل کمشنرز اس سرگرمی کی ذاتی طور پر نگرانی کریں گے تاکہ ابتدائی اقدامات مقررہ مدت میں مکمل کیے جاسکیں۔ حکام کو ایک ہفتے کے اندر ابتدائی اقدامات مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

حساس مریضوں کی حفاظت پر خصوصی توجہ

وزیراعلیٰ مریم نواز نے واضح کیا ہے کہ ہسپتالوں میں موجود مریضوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔ بالخصوص نومولود بچوں اور دیگر حساس مریضوں کے لیے حفاظتی انتظامات میں کسی قسم کی غفلت یا لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

 یہ بھی پڑھیں :پمز سانحہ: 14 نومولود بچوں کا جاں بحق ہونا ایک ناقابلِ بیان قومی سانحہ ہے، وزیراعظم شہباز شریف

انہوں نے ہسپتالوں انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ فائر سیفٹی کے حوالے سے تمام ضروری اقدامات کو یقینی بنایا جائے اور جہاں کسی قسم کی کمی موجود ہو اسے فوری طور پر دور کیا جائے۔ فائر ایکسٹنگوشرز کی دستیابی سے لے کر ہنگامی اخراج کے راستوں اور ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے طریقہ کار تک تمام امور کا تفصیلی جائزہ لینے پر زور دیا گیا ہے۔

پنجاب حکومت کی جانب سے جاری ان ہدایات کا مقصد سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کے انتظامات کو مزید مؤثر بنانا اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال میں مریضوں اور عملے کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ معائنے اور آڈٹ کے دوران سامنے آنے والی خامیوں کی نشاندہی کرکے ان کے ازالے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

editor

Related Articles