تجارتی مذاکرات ناکام : کینیڈا کا امریکا پر جوابی ٹیرف لگانے کا اعلان

تجارتی مذاکرات ناکام : کینیڈا کا امریکا پر جوابی ٹیرف لگانے کا اعلان

امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی مذاکرات ناکام ہو گئے جس کے بعد کینیڈا نے بھی امریکا پر 50 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق کینیڈین وزیراعظم مارک کارنے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم  ایکس پر شیئر کیے گئے ایک بیان میں کہا امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات ختم کر دیے ہیں، امریکی اشیا پر ڈالر کے بدلے ڈالر کے حساب سے جوابی ٹیرف لگایا جائے گا، امریکا کی جانب سے آخری لمحات میں شرائط تبدیل کرنا غیر منصفانہ اور ناقابل قبول ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق امریکا کی جانب سے کینیڈا کی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی بعض مصنوعات پر 50 فی صد ٹیرف ہفتے کی نصف شب کے بعد نافذ ہوگیا،  یہ کینیڈا کی امریکا کو مجموعی برآمدات کے 5 فی صد سے کچھ زیادہ حصے پر لاگو ہوگا۔

نئے ٹیرف کے نفاذ کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا، جبکہ امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کے آزاد تجارتی معاہدے سے متعلق وسیع تر مذاکرات بھی مشکل ہونے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔

اس حوالے سے امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے مذاکرات کی ناکامی کا الزام کینیڈا پر لگاتے ہوئے کہا کہ کینیڈا معاہدے کی شرائط سے پیچھے ہٹا۔

ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق امریکی پیشکش سے کینیڈا کو بڑے برآمد کنندگان میں سب سے بہتر ٹیرف پوزیشن مل سکتی تھی، تاہم کینیڈا نے بالخصوص اسٹیل، ایلومینیم، گاڑیوں اور نرم لکڑی کے شعبوں میں مزید رعایتوں کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں :ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کو بھاری ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دیدی

عہدیدار نے کہا کہ نئے ٹیرف کے نفاذ کے بعد فی الحال مزید مذاکرات کا کوئی شیڈول طے نہیں کیا گیا۔

اس سے چند گھنٹے قبل دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کے امکانات روشن دکھائی دے رہے تھے، جس کے تحت اسٹیل، ایلومینیم اور گاڑیوں پر ٹیرف میں کمی اور ممکنہ طور پر امریکی شراب کی کینیڈین دکانوں میں واپسی شامل تھی۔

امریکا نے گزشتہ ماہ کینیڈا سے درآمد کی جانے والی متعدد مصنوعات، جن میں فرنیچر، دودھ سے بنی اشیا، سیمنٹ، کپڑے، ماہی گیری کا سامان اور ہاکی کا سامان شامل ہے، پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی تھی۔

واضح رہے کہ کینیڈا کی جوابی کارروائی امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کے درمیان شمالی امریکہ کے تجارتی معاہدے کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگاتی ہے جو تینوں ممالک کی صنعت کے لیے اہم ہے۔

تجارتی ماہرین کے مطابق نئے ٹیرف سے بعض پہلے ہی دباؤ کا شکار شعبوں کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، جس کے نتیجے میں ملازمتوں کے خاتمے اور کاروبار بند ہونے کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔

editor

Related Articles