تھرپارکر میں بچوں کی اموات نہ رک سکیں، مزید 3 بچے دم توڑ گئے۔ 8 ماہ میں تعداد 480 ہو گئی۔ سول اسپتال مٹھی میں نومولود بچوں کی مسلسل اموات نے ایک بار پھر علاقے میں صحت کی سہولیات اور غذائی صورتحال پر تشویش پیدا کر دی ہے۔
ہسپتال سے متعلق دستیاب اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے اگست 2026 کے دوران سول اسپتال مٹھی کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں مجموعی طور پر 2 ہزار 273 نومولود بچوں کو علاج کے لیے داخل کیا گیا۔ ان میں سے 480 بچے دوران علاج جان کی بازی ہار گئے۔ حالیہ تین اموات کے بعد رواں سال کے دوران نومولود بچوں کی ہلاکتوں کی تعداد 480 تک پہنچ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اسی عرصے میں آئی سی یو میں زیر علاج 1 ہزار 387 نومولود بچوں کو طبی حالت بہتر ہونے کے بعد ہسپتال سے ڈسچارج کیا گیا جبکہ 106 بچوں کو مزید علاج اور طبی نگہداشت کے لیے دوسرے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق 126 نومولود بچوں کے والدین انہیں طبی عملے کے مشورے کے برخلاف ہسپتال سے اپنے ساتھ لے گئے۔ ایسے بچوں کے بعد کے علاج اور طبی صورتحال سے متعلق معلومات ہسپتال کے ریکارڈ میں مکمل طور پر موجود نہیں ہیں۔
رواں سال سول ہسپتال مٹھی کے آئی سی یو میں نومولود بچوں کی سب سے زیادہ تعداد مئی کے دوران داخل ہوئی۔ اس ماہ 365 بچوں کو انتہائی نگہداشت کی ضرورت پڑی۔ طبی ماہرین کے مطابق کم وزن کے ساتھ پیدا ہونے والے نومولود بچوں میں بیماریوں سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت نسبتاً کم ہوتی ہے اور انہیں خصوصی نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔
تھرپارکر میں غذائی قلت کو بچوں کی خراب صحت کی ایک بڑی وجہ قرار دیا جاتا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق علاقے میں کئی خاندانوں کو مناسب اور متوازن خوراک تک رسائی کے مسائل کا سامنا ہے جس کے اثرات حاملہ خواتین اور نومولود بچوں کی صحت پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ کم وزن بچوں کی پیدائش کے باعث انہیں پیدائش کے فوری بعد طبی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
صحت سے متعلق حلقوں کے مطابق کم عمری کی شادی بھی ماں اور بچے کی صحت سے جڑے مسائل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ کم عمری میں حمل کے دوران مناسب طبی نگرانی اور غذائی سہولیات دستیاب نہ ہوں تو پیچیدگیوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔