آزاد جموں کشمیر کے قائم مقام صدر اور پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما چوہدری لطیف اکبر پر پولنگ کے روز ایک مبینہ پرتشدد حملے نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
پیپلز پارٹی نے اس واقعے کو ریاست کے آئینی وقار پر براہ راست حملہ قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن سے فوری کارروائی اور نامزد ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی اس افسوسناک واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔
حملے کی تفصیلات
آزاد جموں کشمیر میں انتخابی عمل کے دوران کشیدگی اس وقت عروج پر پہنچ گئی جب پولنگ کے عمل کے دوران قائم مقام صدر آزاد کشمیر اور پارٹی امیدوار چوہدری لطیف اکبر کو فزیکلی حملے کا نشانہ بنایا گیا۔
پیپلز پارٹی کے مطابق یہ کوئی معمولی جھگڑا نہیں تھا بلکہ ریاست کے سب سے بڑے آئینی منصب پر بیٹھے شخص کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حملے کے پیچھے سیاسی دشمنی اور انتخابی دباؤ کارفرما تھا۔
پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے الزام عائد کیا ہے کہ اس حملے میں یاسر شاہ، احمد شاہ اور فواد شاہ براہ راست ملوث ہیں۔
واقعے کے فوراً بعد پارٹی کی طرف سے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے اور نامزد ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے ان کی گرفتاری کے لیے پولیس اور ضلعی انتظامیہ پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ اگر آئینی عہدیداروں کو ہی تحفظ حاصل نہیں ہوگا تو عام ووٹر کی کیا حالت ہوگی۔
قیادت کا سخت ردعمل اور مسلم لیگ ن پر الزامات
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے چوہدری لطیف اکبر پر ہونے والے حملے پر شدید غصے اور رنج کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مسلم لیگ ن نے سیاسی مخالفت میں تمام حدیں پار کر دی ہیں اور اب ان کی غنڈہ گردی ووٹرز سے لے کر ریاست کے صدر تک پھیل چکی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ مظفرآباد ڈویژن میں مسلم لیگ ن کی دھونس، دھاندلی اور جبر کا مقابلہ پیپلز پارٹی کے کارکنان صبر اور اصول پسندی کی سیاست سے کر رہے ہیں۔
چوہدری لطیف اکبر آزاد کشمیر کے انتہائی سینئر اور معتبر سیاست دان مانے جاتے ہیں، اور ان پر حملہ دراصل خطے میں رواداری اور جمہوری اقدار کی سیاست کو دفن کرنے کے مترادف ہے۔
الیکشن کمیشن کو ہنگامی شکایت
پیپلز پارٹی کے وفد نے پولنگ کے روز ہی الیکشن کمیشن کو ایک ہنگامی شکایت جمع کروائی، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ اس سنگین واقعے کا فوری اور اعلیٰ سطح پر نوٹس لیا جائے۔
پارٹی نے الیکشن کمیشن سے کہا ہے کہ وہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو فوری ہدایات جاری کرے تاکہ یاسر شاہ، احمد شاہ اور فواد شاہ کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے اور منصفانہ تحقیقات کو یقینی بنایا جا سکے۔
واقعے کے جمہوریت پر اثرات
یہ واقعہ بلاشبہ آزاد کشمیر کی حالیہ سیاسی تاریخ کا ایک انتہائی سیاہ باب ہے۔ جب ریاست کے قائم مقام صدر پر اس طرح کے حملے ہونے لگیں، تو یہ سوالیہ نشان بن جاتا ہے کہ عام انتخابات کتنے شفاف اور پرامن ہو سکتے ہیں۔
سیاسی پنڈتوں کا ماننا ہے کہ اس حملے سے نہ صرف کشمیری سیاست میں پولرائزیشن میں اضافہ ہوگا بلکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان خلیج بھی مزید گہری ہو جائے گی۔
مسلم لیگ ن کے خلاف اس طرح کے سنگین الزامات نے انتخابی ماحول کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے، اور اب دیکھنا یہ ہے کہ الیکشن کمیشن اس چیلنج سے کیسے نبرد آزما ہوتا ہے اور مجرموں کو کس حد تک سزا ملتی ہے۔