سعودی عرب نے اپنی اہم ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو ڈرون حملوں کے بعد احتیاطی طور پر عارضی طور پر بند کردیا ہے، جس سے عالمی توانائی کی سپلائی اور تیل کی قیمتوں کے حوالے سے نئے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ سعودی حکام کے مطابق پائپ لائن کو ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں متعدد ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جن کے نتیجے میں بعض افراد زخمی اور تنصیبات کو نقصان پہنچا۔
سعودی وزارت توانائی کے مطابق حملے جمعرات 10 ستمبر 2026 کی صبح ہوئے۔ حملوں کے بعد پائپ لائن کو مزید نقصان سے محفوظ رکھنے کے لیے اس کی ترسیل عارضی طور پر روک دی گئی۔ ہنگامی اور خصوصی تکنیکی ٹیموں نے فوری طور پر کارروائی شروع کرتے ہوئے پائپ لائن کو محفوظ بنانے اور اس کی حالت کا جائزہ لینے کے اقدامات کیے۔ حکام نے پائپ لائن دوبارہ کھولنے کے لیے تاحال کوئی حتمی وقت نہیں دیا۔
سعودی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ پائپ لائن کو متعدد ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا جو عراق سے آئے تھے۔ سعودی عرب نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عراقی وزیراعظم کی درخواست پر فی الحال جوابی کارروائی نہیں کی جائے گی اور ریاض عراقی حکومت کو اپنی سرزمین سے ہونے والے حملوں کی روک تھام کے لیے اقدامات کا موقع دے گا۔ تاہم سعودی حکومت نے اپنی خودمختاری، سلامتی، تنصیبات اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق برقرار رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
عراق کا ردعمل، فوجی کمانڈر برطرف
حملے کے بعد عراق نے بھی تحقیقات اور سکیورٹی اقدامات شروع کردیئے ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق عراقی حکام نے ایک فوجی کمانڈر کو عہدے سے ہٹا دیا ہے، جبکہ ذمہ دار عناصر کی تلاش کے لیے کارروائی جاری ہے۔ عراق نے سعودی آئل پائپ لائن پر حملے کی مذمت بھی کی ہے۔
تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل ایسٹ ویسٹ پائپ لائن سعودی عرب کے مشرقی تیل پیدا کرنے والے علاقوں سے خام تیل بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع تک پہنچاتی ہے۔ اس راستے کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ سعودی عرب آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر بحیرہ احمر کے راستے عالمی منڈیوں تک تیل پہنچا سکتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق پائپ لائن کی گنجائش تقریباً 70 لاکھ بیرل یومیہ تک ہے، جبکہ موجودہ علاقائی کشیدگی میں سعودی عرب نے آبنائے ہرمز کے متبادل کے طور پر اس راستے پر انحصار بڑھایا ہے۔
عالمی تیل مارکیٹ پر اثر
پائپ لائن کی بندش ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پہلے ہی شدید متاثر ہے۔ رائٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت جمعہ کو 104.56 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی اور ایک ہفتے کے دوران اس میں 8 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوچکا تھا۔
تجزیہ کاروں کے لیے اصل تشویش صرف موجودہ عارضی بندش نہیں بلکہ یہ ہے کہ اگر سعودی عرب کی توانائی تنصیبات پر حملے جاری رہتے ہیں یا پائپ لائن طویل عرصے تک بند رہتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی دستیابی مزید متاثر ہوسکتی ہے، جس سے قیمتوں پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔
خطے میں ایک اور اہم پیش رفت
اسی دوران یمن میں ایران نواز حوثی گروپ کی بحیرہ احمر کے اہم راستے باب المندب کے قریب پیش قدمی نے بھی عالمی توانائی اور سمندری تجارت کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ یوں خلیج میں آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں باب المندب، دونوں اہم راستوں کو درپیش خطرات نے عالمی تیل سپلائی کے لیے صورتحال مزید حساس بنا دی ہے۔
پاکستان کے لیے بھی اہم معاملہ
عالمی تیل قیمتوں میں مسلسل اضافہ پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ملک کے لیے بھی اہم ہے۔ اگر مشرق وسطیٰ میں توانائی تنصیبات اور تیل کی ترسیل کے راستوں پر حملوں کا سلسلہ برقرار رہتا ہے تو عالمی قیمتوں میں اضافے کا اثر مستقبل میں پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں، درآمدی بل اور مہنگائی پر پڑ سکتا ہے۔
اس وقت سعودی عرب نے پائپ لائن کی بندش کو احتیاطی اقدام قرار دیا ہے اور اسے مستقل بندش قرار نہیں دیا گیا۔ مزید صورتحال پائپ لائن کے تکنیکی معائنے، سکیورٹی حالات اور خطے میں جاری کشیدگی پر منحصر ہوگی۔