سہیل آفریدی کی موجودگی میں اشتیاق کے اہلخانہ کا اہم انکشاف، واقعے کا رخ بدل گیا

سہیل آفریدی کی موجودگی میں اشتیاق کے اہلخانہ کا اہم انکشاف، واقعے کا رخ بدل گیا

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور وزیر اعلیٰ کے پی کے سہیل آفریدی کی موجودگی میں اشتیاق کی فیملی کے ایک فرد کی جانب سے اہم انکشاف سامنے آگیا، جس کی ویڈیو بھی منظرعام پر آگئی ہے۔

ویڈیو میں ایک شخص کو سلمان اکرم اور سہیل آفریدی کی موجودگی میں گفتگو کرتے ہوئے سنا جاسکتا ہے  گفتگو کے دوران اس شخص نے کہا کہ اشتیاق کے اہلخانہ سے 17 دن تک کسی نے رابطہ نہیں کیا۔

اشتیاق کی ہلاکت حادثہ قرار

ویڈیو میں موجود شخص نے سہیل آفریدی کی موجودگی میں کہا کہ اشتیاق کی ہلاکت ایک حادثہ تھا اور اس واقعے میں حکومت یا پنجاب پولیس کا کوئی تعلق نہیں۔

اس بیان کے سامنے آنے کے بعد اشتیاق کی ہلاکت کے معاملے پر جاری سیاسی بیانیے کے حوالے سے بھی سوالات اٹھ گئے ہیں۔ ویڈیو میں گفتگو کرنے والا شخص اپنی بات واضح انداز میں بیان کرتا دکھائی دیتا ہے۔

پی ٹی آئی رہنماؤں سے شکوہ

ویڈیو میں شخص نے یہ بھی کہا کہ اشتیاق کی ہلاکت کے بعد 17 دن تک پی ٹی آئی کے کسی رہنما نے ان سے رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی خیریت دریافت کی۔

اس موقع پر سہیل آفریدی اور سلمان اکرم بھی موجود تھے  گفتگو کے دوران اشتیاق کے اہلخانہ سے متعلق معاملات اور پی ٹی آئی رہنماؤں کے رویے پر بھی بات کی گئی۔

گارڈز نے تشدد شروع کردیا

ویڈیو میں یہ بھی سنا جاسکتا ہے کہ گفتگو کے بعد سہیل آفریدی کے گارڈز نے مذکورہ شخص پر تشدد شروع کردیا۔واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر بحث شروع ہوگئی ہے اور سوال اٹھایا جارہا ہے کہ اشتیاق کی ہلاکت کے معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش  کیوں کی گئی ۔

ویڈیو نے نیا سوال کھڑا کردیا

اشتیاق کی ہلاکت سے متعلق سامنے آنے والی اس ویڈیو میں اہلخانہ کے فرد کی جانب سے حکومت اور پنجاب پولیس کو واقعے سے الگ قرار دینے، ہلاکت کو حادثہ قرار دینے اور پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے 17 روز تک رابطہ نہ کرنے کی باتیں کی گئی ہیں۔

ویڈیو کے منظرعام پر آنے کے بعد اشتیاق کی ہلاکت کے معاملے میں ایک نیا رخ سامنے آیا ہے، جبکہ گارڈز کی جانب سے گفتگو کرنے والے شخص پر تشدد کا منظر بھی ویڈیو کا اہم حصہ ہے۔

editor

Related Articles