مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر جنہیں وزارت عظمیٰ نہ ملی تو وہ اپنے حواس کھو بیٹھے ہیں اور انہوں نے اپنے پارٹی صدر کو خط لکھنے کے بجائے فیلڈ مارشل کو خط لکھ دیا ہے شاہ غلام قادر وزارت عظمیٰ نہ ملنے کے غم میں اتنے حواس باختہ ہوچکے ہیں کہ انہوں نے پارٹی صدر کے بجائے ایک دفاعی ادارے کے سربراہ کو خط لکھ دیا اور یہی نہیں انہوں نے سیکٹر کمانڈر کو سیاست میں ملوث کرنے کی ناکام کوشش کی ۔
شاہ غلام قادر کی جانب سے فیلڈ مارشل کو خط لکھنے کے معاملے نے ایک بنیادی سوال کھڑا کردیا ہے کہ اگر معاملہ سیاسی جماعت کے اندرونی فیصلوں، وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار کے انتخاب یا پارٹی کے اندر پیدا ہونے والی ناراضی سے متعلق تھا تو اس کے لیے سب سے موزوں فورم پارٹی قیادت ہی تھی۔
پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت موجود ہونے کے باوجود براہ راست دفاعی ادارے کے سربراہ سے رجوع کرنے کا فیصلہ سیاسی طور پر کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اگر کسی امیدوار کو یہ محسوس ہو کہ اس کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو اسے پارٹی صدر، قائدین اور متعلقہ پارلیمانی فورم پر اپنا مؤقف رکھنا چاہیے، نہ کہ ایسے ادارے کو اس معاملے میں فریق بنانے کی کوشش کی جائے جو سیاسی فیصلوں کا حصہ نہیں۔
ادارے کو سیاست میں کیوں گھسیٹا جائے؟
دفاعی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ملکی سلامتی اور دفاع ہے، سیاسی جماعتوں کے اندر وزارتِ عظمیٰ یا دیگر عہدوں کے لیے امیدواروں کا فیصلہ سیاسی قیادت اور پارلیمانی عمل کے ذریعے ہونا چاہیے۔
اس لیے کسی سیاسی تنازعے کو دفاعی ادارے کے ساتھ جوڑنا خود سیاسی عمل کے لیے نقصان دہ تصور کیا جا سکتا ہے اگر سیاست دان خود اداروں کو سیاسی معاملات میں گھسیٹیں گے تو پھر اداروں کو سیاست سے دور رکھنے کے دعوے بھی کمزور پڑیں گے۔
30 سالہ خدمات کا حوالہ، مگر سیاسی معاملہ کہاں؟
کسی شخص کی ریاستی اداروں کے ساتھ طویل وابستگی یا ماضی کی خدمات اپنی جگہ قابلِ احترام ہوسکتی ہیں، لیکن یہ وابستگی کسی سیاسی عہدے پر حقِ ملکیت پیدا نہیں کرتی۔
ریاستی اداروں میں خدمات انجام دینا اور سیاسی جماعت کے اندر کسی منصب کا امیدوار ہونا دو الگ معاملات ہیں سیاسی عہدہ کارکردگی، سیاسی حمایت اور جماعتی فیصلے سے ملتا ہے، کسی سابقہ ادارہ جاتی تعلق کی بنیاد پر نہیں۔
الزامات لیکن ثبوت کہاں ہیں؟
اس معاملے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ایک اعلیٰ سطح کے سرکاری افسر پر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں ایسے الزامات صرف خط لکھ دینے سے ثابت نہیں ہوجاتے۔
اس کے حقائق، دستاویزی ثبوت اور متعلقہ ریکارڈ سامنے آنا چاہیے لیکن بغیر ثبوت کے ایک انتہائی اہم عہدے پر بیٹھی شخصیت کے خلاف الزام لگانا انتہائی گھٹیا فعل تصور کیا جاتا ہے بے بنیاد اور بغیر ثبوت الزامات سے ثابت ہوتا ہے کہ شاہ غلام قادر وزارت عظمیٰ نہ ملنے پر اپنے حواس کھو چکے ہیں ۔
سیاسی اختلاف کو ادارہ جاتی نہ بنایا جائے
اصل مسئلہ یہی ہے کہ سیاسی اختلافات کا حل سیاسی میدان میں ہونا چاہیے اگر وزارتِ عظمیٰ کے امیدواروں کے درمیان اختلاف ہے تو اس کا فیصلہ پارٹی قیادت کرے، اگر کسی امیدوار کو شکایت ہے تو وہ پارٹی کے اندر اپنا مقدمہ پیش کرے اور اگر کسی سرکاری افسر کے خلاف شکایت ہے تو اس کے لیے باقاعدہ قانونی اور انتظامی راستہ موجود ہے،ہر سیاسی ناراضی کو اداروں کے ساتھ جوڑنے سے نہ صرف تنازع بڑھتا ہے بلکہ ریاستی اداروں کی غیر سیاسی حیثیت بھی متاثر ہوتی ہے۔
سیاست میں شکست کا جواب
وزارتِ عظمیٰ یا کسی بھی بڑے سیاسی منصب کے حصول میں کامیابی اور ناکامی جمہوری سیاست کا حصہ ہے کسی امیدوار کو عہدہ نہ ملے تو اس کے پاس اپنی جماعت کے اندر سیاسی جدوجہد کا راستہ موجود رہتا ہے۔
لیکن اگر سیاسی فیصلے کے بعد معاملہ دفاعی اداروں تک پہنچایا جائے تو بنیادی سوال یہی اٹھتا ہے کہ سیاسی فیصلے کا جواب سیاسی فورم پر دینے کے بجائے اداروں کو اس بحث میں کیوں شامل کیا جا رہا ہے؟
خط میں اپنی بیٹی کا حوالہ دے کر وضاحت پیش کرنے کی کوشش بھی کی گئی، تاہم یہاں بھی بنیادی سوال یہی ہے کہ کسی سیاسی تنازعے میں خاندان کے افراد کو شامل کرنے سے اصل سیاسی معاملہ کہاں تک حل ہوتا ہے؟ اگر کسی شخص کے بارے میں کوئی الزام یا رپورٹ موجود ہے تو اس کی حقیقت کا فیصلہ جذباتی دفاع کے بجائے دستاویزی شواہد اور متعلقہ فورم پر ہونا چاہیے۔
ذاتی صفائیاں یا سیاسی معاملہ؟
اگر کسی خاندان کے فرد کا کسی معاملے سے تعلق نہیں تو اس کی وضاحت متعلقہ فورم پر دی جا سکتی ہے، لیکن اس وضاحت کو سیاسی تنازعے کے مرکزی مقدمے کے طور پر پیش کرنا معاملے کو مزید الجھا دیتا ہے، سوال یہ نہیں کہ کسی رشتے دار کے بارے میں کیا کہا گیا، سوال یہ ہے کہ اصل الزامات کی حقیقت کیا ہے اور ان کے پیچھے کوئی ثبوت موجود ہے یا نہیں؟یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر کسی سیاسی رہنما کو اپنی صفائی پیش کرنی تھی تو کیا اس کے لیے پارٹی قیادت اور سیاسی فورم کافی نہیں تھے؟
سنگین الزام، مگر سیاسی شور زیادہ؟
کسی بھی شخص کے خلاف سنگین نوعیت کی بات سامنے آئے تو دو ہی راستے ہیں یا تو ثبوت سامنے لائے جائیں یا الزام واپس لیا جائے محض خط، پریس بیانات یا سیاسی وضاحتیں کسی الزام کو سچ ثابت نہیں کرتیں،اگر الزام غلط ہے تو اسے ثابت کرنے کا بہترین طریقہ بھی یہی ہے کہ متعلقہ ریکارڈ سامنے لایا جائے اور معاملہ قانونی و ادارہ جاتی طریقے سے نمٹایا جائے۔
اصل سوال وزارتِ عظمیٰ کا؟
پورے معاملے میں سب سے بڑا سیاسی سوال پھر بھی اپنی جگہ موجود ہے کیا اصل ناراضی کسی ادارے سے ہے یا سیاسی فیصلے سے؟اگر معاملہ وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار کے انتخاب کا تھا تو پھر پارٹی قیادت سے جواب طلبی بنتی ہے سیاسی جماعت کے صدر اور قائدین سے سوال بنتا ہے، پارلیمانی ارکان سے حمایت مانگی جا سکتی ہے اور سیاسی کارکنوں کے سامنے اپنا مقدمہ رکھا جا سکتا ہے۔
لیکن اگر سیاسی فیصلے کا رخ اچانک دفاعی ادارے کی طرف موڑ دیا جائے تو یہ سوال ضرور اٹھے گا کہ سیاسی ناکامی کا بوجھ اداروں کے کندھوں پر ڈالنے کی کوشش تو نہیں کی جا رہی؟