پاکستان میں اے آئی انقلاب کی تیاری، 10 لاکھ افراد کو تربیت دینے کا منصوبہ

پاکستان میں اے آئی انقلاب کی تیاری، 10 لاکھ افراد کو تربیت دینے کا منصوبہ

پاکستان میں مصنوعی ذہانت کی تعلیم کو عام کرنے کی راہ میں کئی رکاوٹیں سامنے آگئی ہیں۔ وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے مطابق دیہی اور پسماندہ علاقوں میں تربیتی مراکز کی کمی، انٹرنیٹ کی ناقص سہولت، اہل اساتذہ کی قلت اور آگاہی کا فقدان اے آئی ٹریننگ کی توسیع میں بڑی مشکلات ہیں۔

وزارت کی دستاویز کے مطابق حکومت ان مسائل پر قابو پانے کے لیے علاقائی تربیتی مراکز قائم کرنے، آن لائن اور ہائبرڈ تعلیم کو فروغ دینے اور جامعات و ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری بڑھانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ خواتین اور محروم طبقات کے لیے خصوصی اسکالرشپس کی تجویز بھی شامل ہے۔

5سال میں 10 لاکھ افراد کی تربیت کا ہدف

حکومتی اے آئی پالیسی 2025 کے تحت آئندہ 5 برسوں میں 10 لاکھ نئے اور موجودہ آئی ٹی گریجویٹس کو آئی ٹی اور متعلقہ ٹیکنالوجیز میں تربیت دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ 2027 تک جدید ٹیکنالوجیز میں 10 ہزار انسٹرکٹرز کو تربیت دینے کا منصوبہ بھی شامل ہے، تاکہ ملک میں اے آئی کی تعلیم کے لیے تربیت یافتہ اساتذہ کی تعداد بڑھائی جا سکے۔

ڈیجی اسکلز اور کوڈ فار اے آئی پروگرام بھی شامل

وزارت کے مطابق حکومت پہلے ہی کوڈ 4اےآئی ،ڈی گی سکلز، نیشنل آرٹیفیشل انٹیلی جنس انیشی ایٹو اور اے آئی سیکھوجیسے پروگراموں کے ذریعے تربیتی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔اےآئی سیکھو پروگرام کا مقصد ایک لاکھ سے زائد افراد کو مصنوعی ذہانت اور قدرتی زبان پر مبنی ایپلی کیشنز کی تیاری میں تربیت دیناہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایپل نے ہوم پوڈ منی 2 پیش کردیا، صارفین کو فیچرز میں کیا نیا ملے گا؟

دوسری جانب کوڈ 4اےآئی کے تحت 7,500 افراد کو اے آئی پر مبنی فل اسٹیک ڈیولپمنٹ کی تربیت دینے کا ہدف ہے۔ اس پروگرام میں پروگرامنگ، مشین لرننگ، ڈیپ لرننگ، بلاک چین اور کوانٹم کمپیوٹنگ جیسے شعبے شامل ہیں۔ وزارت کے مطابق مالی سال 2025 اور 2026 کے دوران ڈی گی سکلزکے مختلف کورسز میں 9 لاکھ سے زائد تربیتی سیشنز فراہم کیے گئے۔

دیہی علاقوں تک ٹیکنالوجی پہنچانے کے لیے نئے اقدامات

مجوزہ منصوبے کے تحت ملک بھر میں ایسے علاقوں کی نشاندہی کے لیے جائزہ لیا جا سکتا ہے جہاں جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم کی سہولتیں محدود ہیں۔ اس کے بعد مرحلہ وار تربیتی منصوبہ تیار کرنے کی تجویز ہے۔

دیگر تجاویز میں موبائل ٹریننگ مراکز، علاقائی ٹیکنالوجی سینٹرز اور ملکی و غیر ملکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ تعاون بڑھانا شامل ہے، تاکہ دور دراز علاقوں کے افراد کو بھی جدید ڈیجیٹل مہارتیں سیکھنے کے مواقع مل سکیں۔

editor

Related Articles