30 ہزار نوجوانوں کو جدید ہنر سکھا کر بیرونِ ملک روزگار کی فراہمی کا فیصلہ

30 ہزار نوجوانوں کو جدید ہنر سکھا کر بیرونِ ملک روزگار کی فراہمی کا فیصلہ

حکومتِ بلوچستان نے صوبے کے 30 ہزار نوجوانوں کو جدید فنی علوم سے آراستہ کر کے بیرونِ ملک بھیجنے اور 25 ہزار کو تکنیکی تربیت فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

کوئٹہ میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیرِ صدارت بلوچستان ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (بی ٹی ویٹا) کا ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کے نوجوانوں کو بااختیار اور ہنرمند بنانے کے حوالے سے انتہائی اہم فیصلے کیے گئے۔

اجلاس میں حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ انسٹی ٹیوٹ رجسٹریشن پورٹل نے باقاعدہ طور پر کام شروع کر دیا ہے۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ بلوچستان کے 25 ہزار نوجوانوں کو مختلف صنعتی اور تکنیکی شعبوں میں معیاری اور فنی تربیت دینے کا منصوبہ باضابطہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بلوچستان میں دہشت گردوں کے لیے زمین تنگ، برکھان میں سکیورٹی فورسز کا فیصلہ کن وار،10 جہنم واصل

اس کے علاوہ 30 ہزار ہنرمند نوجوانوں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں بھیجنے کے پروگرام پر پیش رفت کو مزید تیز کرنے کا حتمی فیصلہ بھی کر لیا گیا ہے۔

غفلت برتنے والوں کے خلاف کارروائی اور وزیر اعلیٰ کی ہدایات

اجلاس کے دوران چیف منسٹر یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پروگرام کے مقررہ اہداف کے حصول میں سست روی اور غفلت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف بلا تاخیر قانونی اور انتظامی کارروائی کا حکم دیا۔

وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو واضح ہدایت کی کہ نوجوانوں کو جدید ترین بین الاقوامی تقاضوں اور ملکی و غیر ملکی مارکیٹ کی اعلیٰ ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے معیاری فنی اور سائنسی تربیت فراہم کی جائے تاکہ وہ عالمی سطح پر ملکی نام روشن کرنے کے ساتھ ساتھ صوبے کے معاشی استحکام میں اپنا کلیدی کردار ادا کر سکیں۔

خیبر پختونخوا کی معدنیات اور پروپیگنڈے کا جواب

اسی تناظر میں ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا کی معدنیات اور قومی وسائل سے متعلق پھیلائے جانے والے منفی بیانیے پر بھی ردعمل سامنے آیا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے تمام معدنیات اس قوم اور وہاں کے غیور عوام کی امانت ہیں۔ یہ قدرتی وسائل ہمیشہ کی طرح عوام کی بھلائی اور پائیدار بہتری کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں اور آئندہ بھی استعمال ہوتے رہیں گے۔

حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت جو منفی اور گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے وہ صرف اور صرف عوام کو اشتعال دلانے اور بے چینی پیدا کرنے کے لیے ہے۔

اگر یہ عناصر صوبے کے حقیقی ہمدرد ہوتے تو گزشتہ 13 سالوں میں ان معدنیات کو شفاف طریقے سے استعمال کر کے خیبر پختونخوا کی تقدیر بدل چکے ہوتے، نہ کہ خود غیر قانونی مائننگ میں ملوث ہوتے، جیسا کہ پلیسر گولڈ کی غیر قانونی مائننگ کے الزامات منظر عام پر آ چکے ہیں۔

یہ معدنیات عوام کی ملکیت ہیں اور ان کے بارے میں جو بھی فیصلے ہوں گے، وہ عوامی بہتری اور شفافیت کے ساتھ کیے جائیں گے۔

بلوچستان میں روزگار کے محدود مواقع اور فنی تعلیم کے فقدان کی وجہ سے نوجوانوں کی بڑی تعداد کو شدید مشکلات کا سامنا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:بلوچستان ژوب میں جدید آئی ٹی ہب کا قیام، بلوچ نوجوانوں کے لیے ڈیجیٹل دنیا اور روزگار کے نئے دروازے کھل گئے

وفاقی اور صوبائی سطح پر ہنرمند افرادی قوت کی تیاری پر توجہ دی جا رہی ہے تاکہ پاکستانی نوجوانوں کو خلیجی اور یورپی ممالک میں روزگار کے بہتر مواقع مل سکیں۔

دوسری جانب، پاکستان کے مختلف صوبوں بشمول بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں موجود اربوں ڈالر کے معدنی وسائل کی شفاف ایکسپلوریشن اور قانون کی بالادستی کا نفاذ حکومت کے بنیادی ترجیحی ایجنڈے میں شامل ہے۔

بلوچستان جیسے وسیع اور قدرتی وسائل سے مالا مال صوبے میں 30 ہزار نوجوانوں کو جدید فنی تربیت دے کر بیرونِ ملک بھیجنے کا اقدام معاشی اور سیاسی لحاظ سے ایک بڑا تحرک ثابت ہو سکتا ہے۔

اگر بی ٹی ویٹا اس منصوبے پر شفافیت اور جدید مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق عملدرآمد یقینی بناتی ہے، تو اس سے نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا بلکہ صوبے کے نوجوانوں میں پائے جانے والے احساسِ محرومی کا بھی بڑا حد تک خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔

دوسری طرف، خیبر پختونخوا اور بلوچستان جیسے صوبوں میں غیر قانونی مائننگ کی روک تھام اور قدرتی وسائل کو عوامی فلاح کے لیے استعمال کرنے کی حکمت عملی سے شفافیت کے ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔

Related Articles