اسلام آباد پولیس نے صحافی مطیع اللہ جان کو گرفتار کر لیا۔
پولیس نے صحافی کو گرفتار کرکے تھانہ مارگلہ منتقل کر دیا۔ مطیع اللہ جان پر مقدمہ درج کروایا گیا ہے اور کچھ ہی دیر میں عدالت پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
اسلام آباد پولیس نے مطیع اللہ جان کیخلاف پولیس اہلکار کو زدوکوب کرنے اور دھمکیاں دینے پر مقدمہ درج کیا۔ ایف آئی آر کے مطابق مطیع اللہ جان نے نشے کی حالت میں پولیس بیرئیر کو ٹکر ماری اور پھر گاڑی سے نکلے اور کانسٹیبل سے بندوق چھین کر کانسٹیبل پر تان لی۔
پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ نمبر 715/24 درج کیا ہے جس میں دہشت گردی کی دفعات 7ATA کے ساتھ ساتھ دیگر سنگین جرائم کی دفعات 186، 353، 427، 506ii، 382، 411، اور 279 شامل کی گئی ہیں۔
پولیس کے مطابق تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ملزم وقوعہ کے وقت نشے کی حالت میں تھا اور گاڑی کی سیٹ کے نیچے سے آئس کا پیکٹ بھی برآمد ہوا۔
ملزم کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں۔
اس واقعے کے بعد کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے سینئر صحافی کی گرفتاری کی شدید مذمت کی۔
اس سے قبل خبر تھی کہ مطیع اللہ جان کو گزشتہ رات اسلام آباد کے پمز ہسپتال سے نا معلوم افراد نے اغوا کر لیا ہے۔ اُن کے ہمراہ سینئر صحافی ثاقب بشیر بھی تھے جن کو بعد ازاں اسلام آباد کے آئی نائن سیکٹر میں اغواکاروں نے چھوڑ دیا۔
ثاقب بشیر نے بتایا کہ دونوں کو منہ پر کپڑا ڈال کے ڈالہ نما گاڑی میں لے جایا گیا تھا ، ثاقب بشیر کے مطابق انہیں اغوا کاروں نے سیکٹر آئی نائن کے قریب چھوڑ دیا تاہم اغوا کار صحافی مطیع اللہ جان کو ساتھ لے گئے۔