ایف بی آر میں کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس، ایک سال میں 800 ارب روپے اضافی وصول کیے، وزیر اعظم

ایف بی آر میں کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس، ایک سال میں 800 ارب روپے اضافی وصول کیے، وزیر اعظم

 وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ شفاف طرزِ حکمرانی ہی پاکستان کو معاشی استحکام غربت قرضوں کے بوجھ اور کرپشن سے نکالنے کا واحد مؤثر راستہ ہے وفاقی حکومت، صوبے اور تمام متعلقہ ادارے مل کر ملک میں شفاف نظامِ حکمرانی کے فروغ کے لیے کام کر رہے ہیں جس کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔

بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے موقع پر شرکاء کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) میں برسوں سے جاری ملی بھگت، بدعنوانی اور ٹیکس چوری کے باعث قومی خزانے کے کھربوں روپے چند افراد کی جیبوں میں چلے جاتے ہیں۔ اس عمل نے نہ صرف قومی معیشت کو نقصان پہنچایا بلکہ غربت، معاشی مشکلات اور قرضوں کے بوجھ میں بھی اضافہ کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ الحمد للہ  ہم سب مل کر شفاف طرزِ حکمرانی کے فروغ کے لیے کام کر رہے ہیں اور اس کے مثبت نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں۔ اس صورتحال سے نکلنے کا واحد راستہ شفاف جوابدہ اور ٹیکنالوجی پر مبنی نظام ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ٹیکس چوری کے خلاف مؤثر کارروائیوں کے نتیجے میں صرف ایک سال کے دوران 800 ارب روپے کی اضافی ٹیکس وصولی ممکن ہوئی جو حکومتی اصلاحات کی ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ صوبائی حکومتیں بھی اپنی سطح پر ریونیو نظام میں بہتری اور شفافیت کے لیے اقدامات کر رہی ہیں اور وفاق و صوبے مل کر ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:مالی سال 2025-26 ، ترسیلا ت زر میں نمایاں اضافہ ، وزیر اعظم کا اظہار تشکر

وزیراعظم کے بیان کے تناظر میں وزارتِ خزانہ اور ایف بی آر کی جانب سے جاری اصلاحاتی اقدامات بھی نمایاں نتائج دے رہے ہیں۔ حکام کے مطابق گزشتہ ڈھائی برس کے دوران سیلز ٹیکس میں ہونے والی چوری اور ریونیو لیکیجز کو روکنے کے لیے مصنوعی ذہانت  ڈیٹا اینالیٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا جس سے بڑے پیمانے پر ٹیکس فراڈ کی نشاندہی اور روک تھام ممکن ہوئی۔

ذرائع کے مطابق صرف شوگر اور سیمنٹ کے شعبوں میں جدید نگرانی کے نظام کے ذریعے تقریباً 60 ارب روپے کی اضافی ریکوری کی جا چکی ہے جبکہ دیگر شعبوں میں بھی ٹیکس چوری کے نیٹ ورکس کی نشاندہی کر کے کارروائیاں جاری ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کی اصلاحات ڈیجیٹلائزیشن اور نگرانی کے مؤثر نظام کے باعث گزشتہ دو برسوں کے دوران ٹیکس وصولیوں میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ گزشتہ مالی سال میں ایف بی آر کی مجموعی وصولیاں 13 کھرب روپے سے تجاوز کر گئی ہیں جو ملکی تاریخ کی بلند ترین وصولیوں میں شمار کی جاتی ہیں۔

کرپشن کے خلاف حکومتی مہم کے تحت مشکوک شہرت رکھنے والے 243 سینئر افسران کو معطل یا اہم انتظامی عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدامات ادارے میں احتساب شفافیت اور بدعنوان عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کا حصہ ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ایف بی آر کو مکمل طور پر جدید، شفاف اور ٹیکنالوجی پر مبنی ادارہ بنانے کے لیے پرعزم ہے تاکہ ٹیکس چوری کا خاتمہ قومی آمدن میں اضافہ اور عوامی وسائل کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ قومی خزانے کے ایک ایک روپے کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور ٹیکس چوری بدعنوانی یا ملی بھگت میں ملوث کسی بھی فرد کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ وزیراعظم نے اس امید کا اظہار کیا کہ وفاق صوبوں اور متعلقہ اداروں کی مشترکہ کوششوں سے پاکستان میں شفاف طرزِ حکمرانی مزید مضبوط ہوگی ریونیو میں اضافہ ہوگا اور قومی معیشت پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہوگی۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles