افغانستان کے صوبہ بدخشان میں طالبان اور افغانستان فریڈم فرنٹ (AFF) کے درمیان جھڑپ کے بعد شدت پسند تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی کارروائی میں کم از کم 21 طالبان جنگجو جن میں کئی کمانڈر بھی شامل ہیں ہلاک جبکہ 37 طالبان زخمی ہوئے ہیں۔
افغانستان فریڈم فرنٹ کے مطابق یہ کارروائی ضلع زیبک (Zebak) میں طالبان کی مختلف چوکیوں اور عسکری پوزیشنوں کو نشانہ بنا کر کی گئی۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ حملے کے دوران طالبان کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا اور متعدد اہم عسکری تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا۔
افغانستان انٹرنیشنل انگلش نے بھی افغانستان فریڈم فرنٹ کے حوالے سے یہ دعویٰ رپورٹ کیا ہے طالبان اور افغانستان فریڈم فرنٹ کے مابین خوفناک جھڑپ ہوئی ہے جس میں طالبان کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا طالبان کے کئی اہم کمانڈر بھی اس جھڑپ میں مارے گئے ہیں تاہم طالبان حکومت نے تاحال اس واقعے یا جانی نقصان سے متعلق کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔
افغانستان فریڈم فرنٹ ان مسلح گروہوں میں شامل ہے جو 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد مختلف علاقوں، بالخصوص شمالی اور شمال مشرقی افغانستان میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔ بدخشان، پنج شیر، تخار اور بغلان ایسے صوبے ہیں جہاں ماضی میں بھی طالبان اور مزاحمتی گروپوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔
اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ حالیہ مہینوں میں طالبان کے خلاف مزاحمتی گروپوں کی بڑی کارروائیوں میں شمار ہو سکتا ہے حالیہ کارائیوں آنے والے دنوں میں مزید تیزی بھی آسکتی ہے جس کی وجہ طالبان حکومت کی عوام دشمن پالیسیاں ہیں جن سے نہ صرف افغانستان کے کاروباری حلقوں بلکہ عوامی حلقوں میں بھی سخت نفرت پائی جاتی ہے