بھارت کے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے ہفتے کے روز اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جسے ملک بھر میں امتحانی پرچہ لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ طلبہ گزشتہ کئی دنوں سے امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے وزیر تعلیم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
دھرمیندر پردھان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے استعفے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اپنا استعفیٰ وزیر اعظم نریندر مودی کو بھجوا دیا ہے۔ ان کے استعفے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب نئی دہلی میں پولیس نے نوجوان مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا، جبکہ چند گھنٹوں بعد احتجاجی رہنماؤں اور حکومتی وزرا کے درمیان مذاکرات کا ایک نیا دور بھی طے تھا۔
اپنے دو صفحات پر مشتمل استعفیٰ میں دھرمیندر پردھان نے کہا کہ وہ اس لیے مستعفی ہو رہے ہیں تاکہ ملک دشمن قوتیں موجودہ صورتحال سے فائدہ نہ اٹھا سکیں، قومی اتحاد برقرار رہے، کسی بھی طالب علم کا مستقبل قانونی پیچیدگیوں کا شکار نہ ہو اور بچے اپنی تعلیم اور مستقبل کے کیریئر پر پوری توجہ دے سکیں۔
طلبہ کی قیادت کرنے والی تنظیم کاکروچ جنتا پارٹی نے وزیر تعلیم کے استعفے کا خیر مقدم کرتے ہوئے ایکس پر اپنے بیان میں کہا، کاکروچز جیت گئے… جمہوریت جیت گئی
یہ احتجاجی تحریک وزیر اعظم نریندر مودی کے 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد نوجوانوں کی جانب سے ان کی حکومت کو درپیش سب سے بڑا چیلنج قرار دی جا رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے بھی طلبہ کے مطالبات کی حمایت کی اور پارلیمنٹ کے جاری مون سون اجلاس میں بھی اس معاملے پر حکومت کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث اجلاس کی کارروائی بھی متاثر ہوئی۔
اس سے قبل ہفتے کے روز بھی سی جے پی کے کارکن نئی دہلی کے جنتر منتر پر اپنا دھرنا جاری رکھے ہوئے تھے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پیر کے روز پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی تھی اور لاٹھی چارج بھی کیا تھا۔
اپنے استعفیٰ میں دھرمیندر پردھان نے اپنی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پہلے دن سے اس معاملے کی ذمہ داری قبول کی اور کبھی بھی صورتحال سے منہ نہیں موڑا۔ انہوں نے کہا کہ 3 مئی کو میڈیکل داخلہ امتحان میں بے ضابطگیوں کے سامنے آنے کے بعد حکومت نے فوری اقدامات کیے، جن میں سی بی آئی سے تحقیقات کا حکم دینا، امتحان منسوخ کرنا، دوبارہ امتحان کی تاریخ کا اعلان کرنا اور آئندہ سال سے کمپیوٹر پر مبنی امتحانی نظام متعارف کرانے کا فیصلہ شامل ہے۔
دھرمیندر پردھان نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ذمہ دار عہدوں پر موجود بعض نامعلوم حکام نے طلبہ کو گمراہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس دن ان کے لیے انتہائی افسوسناک رہے اور یہ معاملہ ان کی ذاتی ساکھ کا نہیں بلکہ ملک کے نوجوانوں کے مستقبل کا ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ہم ملک کے نوجوانوں کو کسی بھی قسم کے ابہام کے جال میں نہیں پھنسنے دیں گے۔