اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع سوشل میڈیا پوسٹس (ٹوئٹس) کیس میں سزا پانے والی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ایڈووکیٹ ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستیں قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے پراسیکیوشن کی جانب سے دائر قابلِ سماعت ہونے سے متعلق اعتراضات مسترد کر دیے ہیں۔
جسٹس محمد اعظم خان نے 17 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی متفرق درخواست خارج کر دی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ سزا معطلی کی درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں اس لیے انہیں ناقابلِ سماعت قرار دیا جائے۔ عدالت نے اس اعتراض سے اتفاق نہیں کیا اور درخواستوں کو باقاعدہ سماعت کے لیے قابلِ سماعت قرار دے دیا۔
تحریری فیصلے میں عدالت نے واضح کیا کہ پراسیکیوشن کی جانب سے اٹھائے گئے ابتدائی قانونی اعتراضات اس مرحلے پر سزا معطلی کی درخواستوں کی سماعت میں رکاوٹ نہیں بن سکتے لہٰذا درخواست گزاروں کو اپنی اپیلوں کے ساتھ سزا معطلی کی استدعا پر قانونی مؤقف پیش کرنے کا حق حاصل ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز سماعت کے دوران این سی سی آئی اے کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ سزا معطلی کی درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں اس لیے پہلے اس اعتراض پر فیصلہ کیا جائے۔
دوسری جانب ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ اعتراضات بے بنیاد ہیں اور عدالت دونوں درخواستوں پر سماعت کی مجاز ہے۔ فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو آج جاری کر دیا گیا۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ بھی اس مقدمے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کو سزا معطلی کی درخواستوں پر جلد فیصلہ کرنے کی ہدایت دے چکی ہے جس کے بعد یہ درخواستیں ہائیکورٹ میں زیرِ سماعت ہیں۔
عدالت نے اگرچہ درخواستیں قابلِ سماعت قرار دے دی ہیں تاہم سزا معطلی کی درخواستوں پر حتمی سماعت اور فیصلہ آئندہ تاریخ پر ہوگا جس کے لیے کیس کو غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔