گھوسٹ فونٹ، ایسا منفرد فونٹ جسے انسان پڑھ سکتے ہیں مگر اے آئی نہیں

گھوسٹ فونٹ، ایسا منفرد فونٹ جسے انسان پڑھ سکتے ہیں مگر اے آئی نہیں

ڈیولپر اور ڈیزائنر ایرک لو نے گھوسٹ فونٹ نامی ایسا فونٹ تیار کر لیا ہے جسے انسان تو پڑھ سکتے ہیں لیکن مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے جدید ترین ماڈلز کے لیے یہ کام نا ممکن ہے۔ ایک تجرباتی منصوبے  میں ’گھوسٹ فونٹ‘ نے اے آئی کے جدید ترین ماڈلز کی ایک غیر متوقع کمزوری کو نمایاں کر دیا ہے۔

اس منصوبے کے خالق ڈیولپر اور ڈیزائنر ایرک لو نے اس فونٹ کو اس طرح تیار کیا ہے کہ اسے انسان آسانی سے پڑھ سکتے ہیں، جبکہ اوپن اے آئی اور اینتھروپک جیسے جدید و معروف اے آئی سسٹمز اس میں موجود  مواد  کو درست طور پر سمجھنے میں مشکل کا سامنا کرتے ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :کیا اے آئی قابو سے باہر ہو رہا ہے؟اوپن اے آئی کی وضاحت سامنے آگئی

ایرک لو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ میں نے گھوسٹ فونٹ کے نام سے ایک ایسا فونٹ تیار کیا ہے جسے صرف انسان پڑھ سکتے ہیں جبکہ اسے جب  فیبل اور جی پی ٹی 5.0 سول الٹرا پر آزمایا مگر  دونوں ہی اس میں موجود متن کو درست طور پر سمجھنے میں ناکام رہے۔  اس پوسٹ کو اب تک 1 کروڑ 70 لاکھ سے زائد مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔

میڈیا روپورٹس کے مطابق  گھوسٹ فونٹ حرکت، بصری شور اور گمراہ کن پیٹرنز پر مبنی ہے اس کی خاص بات یہ ہے کہ جیسے ہی اینی میشن کو روکا جاتا ہے اس میں موجود پیغام غائب ہو جاتا ہے۔ روایتی فونٹس کے برعکس جن حروف کو آپ واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں گھوسٹ فونٹ آپٹیکل الوژن پیدا کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :پہلی بار پاکستان کے بہترین فری لانسرز کو قومی ایوارڈ دیا جائے گا

مزید معلومات کے مطابق اس میں اسکرین پر ہزاروں ننھے نقطے دکھائی دیتے ہیں، مخفی حرف کے اندر موجود نقطے ایک سمت میں حرکت کرتے ہیں، جبکہ اردگرد کے نقطے دوسری سمت میں بہتے نظر آتے ہیں۔ انسانی دماغ ان حرکت کرتے نقطوں کو قدرتی طور پر ایک ساتھ جوڑ لیتا ہے، جس سے پوشیدہ لفظ نمایاں ہو جاتا ہے، حالانکہ اس کے گرد کوئی واضح شکل  موجود نہیں ہوتا، تاہم جیسے ہی اینی میشن روک دی جاتی ہے، یہ آپٹیکل الوژن ختم ہو جاتا ہے اور اسکرین پر صرف بے ترتیب نقطے دکھائی دیتے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق  مچھروں کو ڈھونڈ کر فضا میں نشانہ بنانیوالا مائیکرو ڈرون تیار گھوسٹ فونٹ میں ایک اور حفاظتی پرت بھی شامل کی گئی ہے، جس کے تحت اس میں ڈیکو ٹیکسٹ بھی شامل کیا جاتا ہے تاکہ اے آئی سسٹمز غلط نتیجہ نکال لیتا ہے جبکہ انسان حرکت کی بنیاد پر اصل پیغام کو سمجھ لیتے ہیں،  موجودہ اے آئی ماڈلز اکثر ویڈیو کو فریم بہ فریم تجزیہ کرتے ہیں، جس کے باعث وہ اصل متن کے بجائے جعلی متن کو درست سمجھ لیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:سام سنگ نے گوگل جیمنی سے لیس اے آئی اسمارٹ گلاسز متعارف کرا دیے

 ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے کیپچا کو مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے روایتی تصویری یا منطقی پہیلیوں کے بجائے حرکت پر مبنی متن استعمال کیا جا سکتا ہے، جسے انسان تو پڑھ سکیں لیکن اے آئی بوٹس نہ سمجھ پائیں۔ اس فونٹ کے باعث ڈیجیٹل واٹر مارکنگ اور ڈی آر ایم میں بہتری آ سکے گی

گھوسٹ فونٹ طرز کی انکوڈنگ کے ذریعے شامل کیے گئے واٹرمارکس یا کاپی رائٹ نشانات کو اے آئی ٹولز کے لیے شناخت کرنا یا حذف کرنا زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔ فونٹ کی وجہ سے حساس دستاویزات کا بہتر تحفظ ہوسکے گا، اہم دستاویزات میں ایسے متحرک متن یا نشانات شامل کیے جا سکتے ہیں جو انسانوں کو تو دکھائی دیں، لیکن موجودہ اے آئی سسٹمز کے ذریعے خودکار ڈیٹا اکٹھا کرنے یا معلومات نکالنے کے عمل سے محفوظ رہیں۔

editor

Related Articles