شاہد آفریدی کی ایک حرکت نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کر دیا ، ویڈیو وائرل

شاہد آفریدی کی ایک حرکت نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کر دیا ، ویڈیو وائرل

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور اسٹار آل راؤنڈر شاہد آفریدی ایک بار پھر سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آ گئے ہیں تاہم اس بار وجہ ان کی کرکٹ نہیں بلکہ ایک وائرل ویڈیو ہے جس میں وہ ہجوم کے درمیان سے گزرتے ہوئے ایک مداح کو اپنے قریب آنے پر ہاتھ سے پیچھے ہٹاتے دکھائی دیتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شاہد آفریدی سیکیورٹی اہلکاروں کے حصار میں ایک مقام سے گزر رہے تھے اسی دوران ایک نوجوان مداح ان کے قریب آ کر ملاقات یا سیلفی لینے کی کوشش کرتا ہے جس پر شاہد آفریدی اسے ہاتھ سے پیچھے دھکیلتے ہوئے آگے بڑھ جاتے ہیں۔

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین کی جانب سے ملا جلا ردِعمل سامنے آیا ہے۔ متعدد صارفین نے شاہد آفریدی کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قومی ہیروز کو اپنے مداحوں کے ساتھ زیادہ تحمل اور خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرنا چاہیے کیونکہ مداح ہی کسی بھی کھلاڑی کی اصل طاقت ہوتے ہیں۔ بعض صارفین نے آفریدی سے اس واقعے پر وضاحت یا معذرت کا مطالبہ بھی کیا۔

یہ بھی پڑھیں:ایزی پیسہ صارفین کے لیے زبردست خوشخبری، 50 فیصد تک ڈسکاؤنٹ کا اعلان

شاہد آفریدی کی حالیہ حرکت سے سوشل میڈیا میں بحث جاری ہے جبکہ ویڈیو تیزی کے ساتھ وائرل ہورہی ہے لوگوں کی طرف سے شاہد آفریدی کے رویے پر ان کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوے انہیں متکبر تک قرار دیا جارہا ہے

دوسری جانب کئی صارفین نے شاہد آفریدی کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ مختصر ویڈیو سے پورا واقعہ سمجھنا ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے سیکیورٹی خدشات یا ہجوم کے دباؤ کی وجہ سے ایسا ردِعمل سامنے آیا ہو اس لیے مکمل پس منظر جانے بغیر کسی حتمی رائے کا اظہار مناسب نہیں۔

کرکٹ حلقوں کا کہنا ہے کہ مشہور شخصیات کو اکثر عوامی مقامات پر ہجوم اور سیکیورٹی مسائل کا سامنا رہتا ہے تاہم ایسے مواقع پر مداحوں اور شخصیات دونوں کو تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:تیل کی قیمتیں 2 ماہ کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں،پاکستان میں پیٹرول مزید کتنا مہنگا ہوگا؟

تاحال شاہد آفریدی کی جانب سے اس وائرل ویڈیو یا اس پر ہونے والی تنقید کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان یا وضاحت سامنے نہیں آئی جبکہ سوشل میڈیا پر اس واقعے پر بحث کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles